30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لاینعقد علٰی احدٰھما کذافی الظھیریۃ [1]۔ |
یوں کہا کہ میں نے اپنی بڑی بیٹی فاطمہ کا نکاح دیا، توکسی بیٹی کا نکاح نہ ہوا، ظہیریہ میں ایسے ہے۔ (ت) |
ولوالجیہ میں ہے:
|
لاینعقد علی احدٰھما لانہ لیس لہ ابنۃ کبری بھذا الاسم ٢[2] اھ ونحوہ فی الفتح ٣[3] عن الخانیہ ولاتنفع النیۃ ھٰھنا ولامعرفۃ الشہود بعد صرف اللفظ عن المراد۔ واﷲ تعالٰی اعلم |
کسی بیٹی کا نکاح نہ ہوا کیونکہ اس کی بیٹی کی کوئی بڑی بیٹی اس نام کی نہیں ہے اھ اور فتح میں خانیہ سے بھی یہی مروی ہے اور یہاں نیت اورگواہوں کا فہم کارآمد نہ ہوگا جبکہ اس نے مراد کے خلاف صریح لفظ استعمال کیا ہے۔ والله تعالٰی اعلم۔ (ت) |
مسئلہ ٥١، ٥٢: از شہر میرٹھ اندر کوٹ مرسلہ عبدالرحمان صاحب عرف ننھے ٢٠ رمضان المبارك ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(١) اہل تسنن واہل تشیع میں باہم عقد ہوسکتا ہے یا نہیں یعنی لڑکا فرقہ شیعہ کا ہو اور لڑکی اہلسنت وجماعت کی ہو ان دونوں میں باہمی نکاح مذہب اہل سنت کے عقائد کے موافق صحیح ہوگا یا نہیں؟
(٢) اگر کچھ عرصہ بعد لڑکی اہل تشیع ہوجائے تو نکاح رہے گا یا نہیں؟
الجواب:
(١) عوام ان تبرائی روافض کواہل تشیع کہتے ہیں ان سے مناکحت حرام قطعی وباطل محض، اور قربت زنائے خالص ہے اگرچہ مرد سنی اور عورت ان میں کی ہو، نہ کہ عکس کہ اشد غضب الله کا موجب ہے، والعیاذبالله تعالٰی۔
(٢) اگر وقت نکاح سنی تھے پھر مرد معاذالله ان میں کا ہوگیا تونکاح فورًا فسخ ہوگیا خواہ عورت نے بھی وہی مذہب اختیار کرلیا ہو یا نہیں۔
|
لان ردۃ الرجل فسخ فی الحال بالاجماع ولانکاح لمر تد مع احد ولو مرتدۃ مثلہ ٤[4]۔ |
کیونکہ خاوند کے ارتداد سے فورًا نکاح فسخ ہوجاتا ہے بالاجماع، اور مرتد کا کسی سے بھی حتی کہ اس جیسی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع