30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر بھی اگر بعد اذان نکاح کریگا گناہ ہوگا مگر نکاح جائز وصحیح ہوجائے گا کما فی الھدایۃ فی البیع ان الکراھۃ للمجاور [1] (جیسا کہ ہدایہ میں بیع کے بارے میں ہے کہ کراہت مجاور یعنی ترك سعی کی وجہ سے ہے، ت) والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ٤٨: از اجمیر شریف ڈگی بازار مرسلہ سید زاہد حسین صاحب مالك ومینجر پریس اعلان الحق ١٤ رجب المرجب ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی شخص یا چند اشخاص نے خصومۃً یہ کہہ دیاہو کہ فلان شخص خواص منکوحہ سے ہے جو خواص باعصمت وعفت لکھی گئی ہو تو کیا وہ اولاد جائز ہے؟ اور وہ جدی ورثہ پانے کے مستحق ہے یا نہیں؟ کیا ایسی اولاد کی شرافت ونجابت میں کوئی شك وشبہہ ہے؟ خواص وکنیز ك میں کیا فرق ہے اوران کی تعریف کیا ہے؟
الجواب:
خواص وکنیز ك میں کوئی فرق نہیں وہ عورت کہ بملك شرعی کسی کی ملك ہو اس کی کنیز ہے، پھر اگر دوسرے کی کنیز سے اس کی اجازت سے اس نے نکاح کیا تونکاح صحیح ہوا۔ اور باپ اگر شریف ونجیب ہے تو اولاد بھی شریف ونجیب ہے کہ شرعًا نسب باپ سے لیا جاتا ہے۔
|
قال اﷲ تعالٰی وَعَلَی الْمَوْلُوۡدِ لَہٗ رِزْقُہُنَّ[2]۔ |
الله تعالٰی نے فرمایا؟ اور جس کا بچہ ہے اس پر عورتوں کا خرچہ ہے۔ (ت) |
ہاں ہندوستان میں دربارہ کفاءت اسے کم مانیں گے کہ یہاں کنیز کی اولاد کو کم درجہ سمجھتے ہیں اور اگر اپنی کنیز شرعی ہے تو اس سے نکاح باطل ہے اور بلا نکاح حلال ہے اگر کوئی ممانعت شرعیہ نہ ہو۔ بہر حال مولا کے جو ا ولاد اس سے ہو صحیح النسب ہے اور ترکہ پدری پانے کی مستحق ہے جبکہ مولا نے اقرار کیا ہو کہ یہ میری اولاد ہے۔ والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ٤٩: از دہلی پہاڑ گنج مسجد غریب شاہ مرسلہ سید محمد عبدالکریم صاحب ٩ شعبان ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کہ اکثر جاہل لوگوں میں رواج ہے کہ اگر کوئی شخص مرگیا اور بعد عدت اس عورت نے برادری کے مرد سے نکاح کرنا چاہا تو اس مرنے والے کے لواحقین نے کچھ روپیہ نکاح کرنے والے سے نقد لے کر اس عورت کو نکاح کرنے دیا روپیہ کی تعداد دوسو سے تین سَے تك لیتے ہیں، اگر ان کو یہ کہا جاتا ہے کہ یہ روپیہ لینا جائز نہیں تو جواب دیا جاتا ہے کہ یہ تو پنچان کی رسوم ہے، اگر یہ رسوم نہ ہو تو تمام عورتیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع