30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی خاطر چھوڑ دیا۔ (ت)بلکہ متعہ کی کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی سوائے اس کے کہ جس سے کیاوہ رافضیہ ہو اور رافضیہ حال سے نکاح بھی باطل ہے نہ کہ متعہ، تو یہ حرام در حرام ہوا، ظہیریہ وہندیہ وحدیقہ وغیرہا کتب معتمدہ میں ہے : احکامھم احکام المرتدین [1](ان سے متعلق مرتدین کے احکام ہیں۔ت) بالجملہ وہ شرعا سخت سز اکا مستحق ہے مگر ارتکاب حرام کے باعث کافر نہ ہوا کہ اس کی بیعت فسخ ہوجاتی یا اس کے مرنے پرمسلمان اس کی تجہیز وتکفین ونماز کے ذمہ دار نہ رہیں بلکہ بہ سبب کبیرہ حنفیت سے بھی خارج نہ ہوگا اگر اسے حرام جان کر کیا ہو، ہاں اگرحلال جانا توحنفیت کیا سنیت سے خارج ہوگیا ولایخرج عن الاسلام لما لھم فیم الشبھۃ (شبہ والی بات سے خارج از اسلام نہ ہوگا۔ ت) والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٤٧: از موضع نڈوا مہوا ڈاکخانہ بکھربازار ضلع بستی مرسلہ گل میاں صاحب ١٣ رجب ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص ساکن مہداول میں اپنی سگی بھتیجی عاقل بالغ کو ایك شخص ساکن امر ڈوبھا کے حوالے کردی چونکہ اس لڑکی کا باپ مدت سے انتقال کر گیا لڑکی کا چچا ا س کا مربی تھا وہ لڑکی جس شخص کے حوالے کردی اس کو کہا گیا کہ تم اپنے گھر جاکر اس لڑکی سے نکاح کرلو، جمعہ کے روز رو برو گواہان معتبران کے نکاح کر لیاگیا، بعد چند یوم کے چچا کو اس کے عزیزوں نے بہکادیا، انھوں نے جھگڑا ڈال کرکے ایك مولوی کو بلایا، مولوی صاحب نے یہ حکم دیا جمعہ کی نماز اداکرنے کے پہلے نکاح جائز نہیں ہوتا اس واسطے ہم لوگ یہ عریضہ آپ کی خدمت میں روانہ کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ سچ ہے کہ جمعہ کے روز نکاح ناجائز ہے برائے مہربانی یہ مسئلہ لکھ کرکے روانہ فرمادیں۔
الجواب:
اس شخص کا یہ کہنا محض غلط اور شریعت پر افترا ہے، نکاح ہر دن جائز ہے، ہاں اگر اذان جمعہ ہوگئی تو اس کے بعد جب تك نماز نہ پڑھ لی جائے نکاح کی اجازت نہیں کہ اذان ہوتے ہی جمعہ کی طرف سعی واجب ہوجاتی ہے:
|
قال تعالٰی یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللہِ وَ ذَرُوا الْبَیۡعَ ؕ[2]۔ |
الله تعالٰی نے فرمایا: اے ایمان والو! جب جمعہ کے روز اس کی اذان ہو تو الله تعالٰی کے ذکر کے لیے چل پڑو اور خرید و فروخت چھوڑدو۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع