30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نماز پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب۔ فتاوٰی حجہ میں ہے:
|
لوقد موا فاسقا یاثمون [1]۔ |
اگر فاسق کوامام بنایا تووہ گناہ گار ہوں گے۔ (ت) |
غنیہ میں ہے:
|
بناء علی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم لعدم اعتنائہ باموردینہ فلا یبعد منہ الاخلال ببعض شروط الصلوۃ وفعل ما ینافیھا ھو الغالب بالنظر الی فسقہ [2]۔ |
اس بناپر کہ فاسق کو امام بنانے کی کراہت، کراہت تحریمی ہے، کیونکہ وہ دینی امور سے بے اعتنائی کرتاہے تو کیا بعیدکہ وہ نماز کی بعض شرطوں میں خلل اور ان کے منافی عمل نماز میں کردے، اس کے ظاہر حال سے یہی غالب گمان ہوتا ہے (ت) |
اور جب ایك بدبودار چمڑے کے لیے اس نے حرام قطعی کا ارتکاب کیا اور بیباك اتناکہ کچہری میں اس کا خود اعلان کیا تواس کے قول وفعل کا کیا اعتبار رہا، بلکہ معاذالله مرتے وقت اس کے سلب ایمان کا خوف ہے، تا تارخانیہ و ردالمحتار وغیرہما میں ہے:
|
حکی ان رجلا من اصحاب ابی حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ، خطب الٰی رجل من اصحاب الحدیث ابنتہ فی عہد ابی بکر الجوزجانی فابی الا ان یترك مذھبہ، فیقرأ خلف الامام ویرفع یدیہ عندالانحطاط ونحو ذلك فاجا بہ فزوجہ فقال الشیخ بعد ماسئل عن ھذہ واطرق راسہ النکاح جائز ولکن اخاف علیہ ان یذھب ایمانہ وقت النزع لانہ استخف بمذھب الذی ھو حق عندہ وترکہ لاجل جیفۃ منتنۃ [3]۔ |
ایك شخص کے متعلق بیان کیا گیاہے کہ وہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا مقلد تھا اس نے (شافعی مسلک) ایك محدث کی لڑکی کی منگنی چاہی تو محدث صاحب نے حنفی مسلك چھوڑنے اور رفع یدین اور قرأت خلف الامام کرنے کی شرط پر رشتہ دیا جواس نے قبول کرلیا اور محدث صاحب نے نکاح دے دیا، یہ واقعہ شیخ ابو بکر جوزجانی کے زمانے کا ہے جب آپ سے اس واقعہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے سوچ بچار کے بعد فرمایا: نکاح تو جائز ہے لیکن اس شخص کے بارے میں مجھے اندیشہ ہے کہ نزع کے وقت اس کا ایمان جاتا رہے کیونکہ اس نے اپنے پسندیدہ مذہب کی توہین کی ہے اور اسے بدبودار مردار |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع