30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ٤٢: از موضع میونڈی بزرگ مرسلہ سید امیر عالم حسن صاحب مورخہ ٧ ربیع الاول شریف ١٣٣٧ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی آشنائی ایك طوائف سے ہے اورا س سے فعل حرام کرتاہے اور اس سے کئی اولاد پیدا ہوچکی ہیں اب طوائف مذکور کایہ ارادہ ہے کہ میرا نکاح ا س زید آشنا سے ہوجائے تاکہ میں فعل حرا م سے بچ جاؤں، زیدکی بھی کچھ منشاپائی جاتی ہے لیکن زید کے گھروالے اس نکاح کے منکرہیں اور زید پر اس بات کا دباؤ ڈالتے ہیں کہ اگر تونے اپنا نکاح طوائف سے کیا تو تم کو برادری سے خارج کردیں گے اس واسطے کہ ہمارے خاندان کو دھبہ لگانا ہے کیونکہ ہم شریف ہیں، اور نہ اس کی اولاد کا ہم لوگ اپنی برادری میں شادی بیاہ کرسکتے ہیں، یہ نکاح ٹھیك نہیں، اب علمائے دین فرمادیں کہ یہ نکاح کرنا کیساہے، آیا سنت میں داخل ہے یاخلاف سنت؟ اور زید ا س نکاح کے کرنے سے دائرہ اسلام اور برادری میں رہا یانہیں؟ اور منکر اس نکاح کے کس درجہ میں شمار کئے جائیں ؟ اور جو اس نکاح پر اعتراض کریں اور برا کہیں وہ کس درجہ میں شمارہیں؟ فقط، جناب اعلٰی حضرت کے مع آیت وحدیث، مہر، دستخط کے امید وار ہیں، بینوا توجروا
الجواب:
نکاح سنت ہے مگر رنڈی سے نکاح سنت نہیں، بلکہ اس کے جائز ہی ہونے میں ائمہ کااختلاف ہے، پھر ایك جائز بات جس سے فتنہ ونفرت پیدا ہو اورآپس میں پھوٹ پڑے، ناجائز ہوجاتی ہے، رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیںـ : بشروا ولاتنفروا [1](خوشخبری دو اور نفرت نہ پھیلاؤ۔ ت) والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٤٣، ٤٤: از چوہڑ کوٹ یارکھان ملك بلوچستان مرسلہ قادر بخش صاحب ١٤ ربیع الاول شریف ١٣٣٧ھ
|
چہ مے فرمایند علمائے دین دریں مسائل کہ: (١) اگرزنے بیوہ شود دویم بارنکاح کردن لازم است یامیخواہد کہ من نکاح نمی کنم کہ مے گوید بنشینم رواست یا نہ، خواہ جوان باشد یا درمیان سالہ باشد یا پیرز ن بود، ہر چہ حکم شرع باشد تحریر فرمایند۔ (٢) چو پدر درزندگی خود دختر را بکود کے درعقد |
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ: (١) کوئی عورت بیوہ ہوجائے توکیا اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوسرا نکاح کرے جبکہ وہ کہتی ہے میں نکاح نہیں کروں گی اور بغیر نکاح بیٹھوں گی، جوان، درمیانہ عمر یا عمر رسیدہ ہو، کیا اس کو بغیر دوسرے نکاح کے بیٹھنا جائز ہے جو شرعی حکم ہو تحریر فرمادیں۔ (٢) باپ نے بیٹی کا نکاح کسی بچے سے کیا اور خاوند |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع