30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الفاظ کسی غیر زبان کے نہ تھے جس سےآگاہی نہ ہو تونکاح ہوجائے گا اور یہ عذر مسموع نہیں، اوراگر غیر زبان کے تھے اور فی الواقع اس نے اسے عقد نہ سمجھا تو عندالله نکاح نہ ہوگا، رہا قاضی، اسے نظر کامل چاہئے اگر ظاہر ہو کہ واقعی فریب کیا گیا اور دھوکا دیا گیا تو بطلان نکاح کا حکم دے ورنہ صحت کا۔
|
ھذا ماعندی وارجو ان یکون ھوالفقہ المتین والقول الجامع الناصع المبین۔ |
میرے ہاں فہم یہ ہے اور امید ہے کہ یہی مضبوط فہم ہے اور یہی جامع واضح اور خاص قول ہے (ت) |
زن فاحشہ سے نکاح جائز ہے اگرچہ تائب نہ ہوئی ہو، ہاں اگر اپنے افعال خبیثہ پرقائم رہے اوریہ تاقدر قدرت انسدادنہ کرے تو یہ دیوث ہے اورسخت کبیرہ کا مرتکب، مگریہ حکم ا س کی اس بے غیرتی پرہے نفس نکاح پر اس سے اثر نہیں، حق سبحانہ وتعالٰی نے محرمات گنا کر فرمایاـ: وَاُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ[1](اور ان کے سوا جو رہیں وہ تمھیں حلال ہیں۔ ت) رہی آیہ کریمہ:
|
وَّ الزَّانِیَۃُ لَا یَنۡکِحُہَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۳﴾[2]۔ |
زانیہ عورت سے صرف زانی یا مشرك نکاح کرے اور مومنین پر یہ حرام ہے (ت) |
اس کاحکم منسوخ ہے قالہ سعید بن مسیب وجماعۃ (یہ سعید بن مسیب اور ایك جماعت کا قول ہے۔ ت) یا نکاح سے یہاں جماع مراد ہے کما قال حبرالامۃ عبداﷲ بن عباس وسعید بن جبیر ومجاھد والضحاك وعکرمۃ وعبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ویزید بن ھارون [3](جیساکہ امت کے ماہر عالم عبدالله بن عباس اور سعید بن جبیر اور مجاہد، ضحاک، عکرمہ، عبدالرحمان بن زید بن اسلم، اور یزید بن ہارون کا قول ہے۔ ت)والتفصیل فی فتاوٰنا (اس کی تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔ ت) والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٤٠: مسئولہ عبدالرحیم خاں یکم رجب ١٣٢٩ھ
نکاح کے وقت ولی کی بات قبول کی جائے گی یا لڑکی کے زبانی الفاظ جو وہ کہتی ہے اور ولی کس کو بنا نا چاہئےـ؟ نکاح میں ضروری الفاظ اور لازمی کیا کیا ہیں ا ور ان کا طریقہ کیا ہے؟
الجواب:
لڑکی بالغہ ہے توا س کا اپنا ایجاب یا قبول ہونا چاہئے اگرچہ بواسطہ وکیل۔ اور نابالغہ ہے تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع