30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
صححہ فی الجوھرۃ وقال فی الظھیریۃ والظاھرانہ یشترط فھم انہ نکاح واختارہ فی الخانیۃ فکان ھو المذھب لکن فی الخلاصۃ لویحسنان العربیۃ فعقد ابھا والشھود لایعرفونھا الاصح انہ ینعقد ووفق الرحمتی بحمل الاشتراط علی اشتراط فھم انہ عقد نکاح والقول بعدمہ علی عدم اشتراط فھم معانی الالفاظ بعد فھم ان المراد عقد نکاح[1]اھ۔
۴۱قلت قدکان سنح للعبد الضعیف قبل ان ارہ لاشك انہ حسن جد اوفی وجیز الامام الکردری تزوجھا بالعربی وھما یعقلان لاالشھود قال فی المحیط الاصح انہ ینعقد وعن محمد تزوجھا بحضرۃ ھندیین ولم یمکنھما ان یعبرا لم یجز فھذا نص علی انہ لایجوز فی الاول ایضا اھ [2]۔
|
جوہر ہ میں اس حکم کو صحیح کہا ہے، اور ظہیریہ میں ہے کہ ظاہر یہی ہے کہ نکاح ہونا گواہوں کو سمجھناشرط ہے۔ اور خانیہ میں ا س کو مختار کہا تو یہی مذہب ہے لیکن خلاصہ میں ہے کہ اگر نکاح کے فریقین عربی اچھی طرح جانتے ہیں اور انھوں نے نکاح عربی میں کیا جس کو گواہوں نے نہ سمجھا تو اصح یہ ہے کہ نکاح ہوجائیگا۔ اور علامہ رحمتی نے دونوں اقوال میں یہ موافقت کی کہ جہاں گواہوں کے فہم کو شرط کہا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ نکاح ہونے کو سمجھ لیں اورجہاں فہم کوشرط قرار نہیں دیا گیا اس سے مراد یہ ہے کہ قبول وایجاب کے الفاظ کے معانی سمجھنا شرط نہیں جبکہ نکاح ہونے کافہم حاصل ہوچکا ہو ا ھ قلت اس عبد ضعیف پر واضح ہوا کہ یہ تطبیق بہت اچھی ہے جبکہ ابھی میں نے یہ نہیں دیکھا تھا اور وجیز کردری میں ہے کہ مر دوعورت نے عربی میں نکاح کیا، وہ دونوں عربی جانتے تھے اور گواہ نہ جانتے تھے محیط میں فرمایا کہ اصح یہ ہے کہ نکاح ہوجائے گا، اور امام محمد رحمہ الله تعالٰی سے مروی ہے کہ فریقین نے عربی میں دو ہندی حضرات کی حاضری میں نکاح کیاجبکہ یہ حضرات ا س کی تعبیر پر قدرت نہیں رکھتے تو نکاح جائزنہ ہوگا، امام احمدسے مروی یہ اس بات پر نص ہے کہ عقدنکاح ہونا سمجھنے سے بھی نکاح نہ ہوگا اھ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع