30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وقال الامام شمس الاسلام الاوزجندی لالانہ کالطوطی وسیأتی علیہ التعویل [1]۔
|
"قبلت"(میں نے قبول کیا) کہا تو صحیح ہوگا خواہ گواہوں کو عبارت کا معنی معلوم ہو یا نہ ہو، نصاب میں فرمایا کہ اسی پر فتوٰی ہے اور مسئلہ طلاق کا بھی یہی حکم ہے، اور امام شمس الاسلام اوزجندی نے فرمایا: طلاق نہ ہوگی کیونکہ مذکورہ صورت میں مرد، طوطے کے مانند ہے اور عنقریب آئے گا کہ اس پر اعتماد ہے۔ (ت) |
اسی میں ہے:
|
لقنہ الطلاق بالعربیۃ وھولایعلم قال الفقیہ ابو اللیث لایقع دیانۃ وقال مشائخ اوزجند لایقع اصلا صیانۃ لاملاك الناس عن الابطال بالتلبیس وکذا لو لقنت الخلع وھی لاتعلم وقیل یصح و المختار ماذکرنا [2] اھ ملتقطا۔ |
خاوند کو کسی نے عربی زبان میں طلاق سکھائی جبکہ وہ ا س کا معنٰی اورمقصد نہ جانتا تھا اس کے طلاق کہنے پر فقیہ ابواللیث کے قول کے مطابق دیانۃً طلاق نہ ہوگی، اور مشائخ اوزجند نے فرمایا طلاق بالکل نہ ہوگی تاکہ دھوکے سے لوگوں کے اموال کو ضیاع سے بچایاجاسکے، اوریوں ہی اگر عورت کو خلع سکھایاگیا اور اس کو معلوم نہیں کہ معنٰی کیاہے، تو بعض نے کہا کہ خلع صحیح ہوگا جبکہ مختار وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے اھ ملتقطا (ت) |
رہا نکاح میں گواہوں کا سمجھنا، اس میں تحقیق وتوفیق یہ ہے کہ معنٰی بمعنی اول کا سمجھنا ضرور نہیں بمعنی دوم کا سمجھنا دیانۃً وقضاءً ہر طرح لازم ہے یعنی اتنا جانتے ہیں کہ یہ نکاح ہورہاہے یہ الفاظ ایجاب وقبول ہیں اگرچہ تفسیر الفاظ نہ جانیں نہ اس سے آگاہ ہوں، درمختار میں ہے:
|
شرط حضور شاہدین فا ھمین انہ نکاح علی المذھب، بحر [3]۔ |
نکاح سمجھنے والے دوگواہوں کی حاضری شرط ہے یہ مذہب ہے بحر۔ (ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قال فی البحر جزم فی التبیین بانہ لوعقدا بحضرۃ ھندیین لم یفھما کلامھما لم یجز و |
بحر میں ہے کہ تبیین میں اس پر جزم کیا گیا ہے کہ اگر دو ہندی گواہوں کی حاضری میں عربی میں نکاح فریقین نے کیا جن کے کلام کو وہ نہ سمجھ سکے تو نکاح جائز نہ ہوگا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع