30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لو لقنتہ لفظ الطلاق فتلفظ بہ غیر عالم بمعناہ وقع قضاء لادیانۃ وقال مشائخ اوزجندی لایقع اصلا صیانۃ لاملاك الناس عن الضیاع بالتلبیس کمافی البدائع کذا فی البزازیۃ [1]۔ |
اگر بیوی نے خاوند کو طلاق کے لفظ کہلائے جبکہ خاوند کو ان کا معنٰی معلوم نہیں تھا تو یہ لفظ کہنے سے طلاق قضاءً واقع ہوگی دیانۃً نہیں ہوگی، مشائخ اوزجند نے فرمایا کہ اس صورت میں بالکل طلاق نہ ہوگی تاکہ دھوکے سے لوگوں کے املاك کو ضیاع سے بچایا جاسکے، جیساکہ بدائع میں ہے، اور یوں ہی بزازیہ میں ہے۔ (ت) |
تاتار خانیہ پھرمنحہ میں ہے:
|
حکی عن القاضی الامام محمود الاوزجندی عمن لقنتہ امرأۃ طلاقا فطلقھا وھو لایعلم بذلك قال وقعت ھذہ المسألۃ باوزجند فشاورت اصحابی فی ذلك واتفقت اٰراؤنا انہ لایفتی بوقوع الطلاق صیانۃ لاملاك الناس عن الابطال بنوع تلبیس ولو لقنھا ان تخلع نفسھا منہ بمھرھا ونفقۃ عدتھا و اختلعت لایصح وبہ یفتی [2]۔ |
امام قاضی محمود اوزجندی کے بارے میں مروی ہے کہ انھوں نے اس صورت کے بارے میں کہ بیوی نے خاوند کو طلاق سکھائی جبکہ خاوند کو اس کامعنی معلوم نہ تھا، خاوند نے طلاق کہہ دی فرمایا کہ یہ مسئلہ اوزجند میں پیش آیا تو میں نے اپنے اصحاب سے اس کے متعلق مشورہ کیا توہماری متفقہ رائے یہ قرارپائی کہ اس صورت میں طلاق ہوجانےکا فتوٰی نہیں دیا جائیگا تاکہ دھوکے کے ذریعے لوگوں کے املاك کو ضیاع سے بچایاجاسکے، اور اگر خاوند نے بیوی کو خلع بعوض مہر نفقہ عد ت سکھایا، تو عورت نے خلع کے یہ الفاظ کہہ دئے تو خلع صحیح نہ ہوگا، اسی پر فتوٰی ہے۔ (ت) |
وجیز امام کردری میں ہے:
|
لقنت المرأۃ بالعربیۃ زوجت نفسی من فلان ولا تعرف ذٰلك وقال فلان قبلت والشھود یعلمون اولایعلمون صح النکاح قال فی النصاب وعلیہ الفتوی وکذا الطلاق |
کسی عورت کو عربی میں کہلایا گیا"زوجت نفسی من فلان"(میں نے اپنے آپ کو فلاں شخص سے بیاہ دیا) جبکہ عورت کو اس عبارت کا معنٰی معلوم نہ تھا اس کے بعداس فلاں شخص نے جوا ب میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع