30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ولہذا درمختار میں فرمایا:
|
تلفظ بہ (ای بالطلاق) غیرعالم بمعناہ اوغافلا اوساھیا اوبالفاظ مصحفۃ یقع قضاء فقط بخلاف الھازل واللاعب فانہ یقع قضاء ودیانۃ لان الشارع جعل ھزلہ بہ جدا[1]۔ فتح۔ |
معنٰی معلوم نہ ہونے یاغفلت یا بھول کر،یا غلط تلفظ کی صورت میں طلاق کا لفظ بولا توصرف قضاء طلاق ہوگی، اس کے برخلاف جبکہ مذاق اورکھیل کے طورپر لفظ طلاق بولے تو قضاءً ودیانۃً دونوں طرح طلاق ہوجائی گی کیونکہ شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام نے طلاق میں مذاق کو قصدًا طلاق کا حکم دیا ہے۔ فتح۔ (ت) |
ا س تقریر سے مستنیر ہو اکہ جن اکابر نے صورت مسئولہ میں انعقاد نہ مانا وہ حکم دیانت ہے اور جن ائمہ نے مانا وہ حکم قضا ہے۔ لاجرم امام فقیہ النفس نے صاف فرمایا:
|
ان لم یعرفا معنی اللفظ ولم یعلما ان ھذا لفظ ینعقد بہ النکاح فہذہ جملۃ مسائل الطلاق والعتاق والتدبیر والنکاح والخلع والابراء عن الحقوق و البیع والتملیك فالطلاق والعتاق والتدبیر واقع فی الحکم ذکرہ فی عتاق الاصل فی باب التدبیر واذا عرف الجواب فی الطلاق والعتاق ینبغی ان یکون النکاح کذلك لان العلم بمضمون اللفظ انما یعتبر لاجل القصد فلایشترط فیما یستوی فیہ الجد والھزل بخلاف البیع ونحو ذلك [2]۔ |
اگر دونوں لفظ کا معنٰی نہیں جانتے اور یہ بھی معلوم نہیں کہ اس لفظ سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے تو طلاق عتاق، تدبیر، خلع، حقوق سے بری کرنا بیع اور تملیك یہ تمام مسائل ہیں ان میں سے طلاق، عتاق اورتدبیر (مدبر بنانا) حکم میں شامل ہیں، امام محمد نے اس حکم کو اصل کے باب عتاق کی بحث تدبیر میں ذکرکیا ہے اور جب طلاق وعتاق کا حکم معلوم ہوگیا تو نکاح کابھی یہی حکم ہونا چاہئے کیونکہ لفظ کے مضمون کا علم قصد واختیار کے لیے معتبرہوتاہے توجہاں قصد ومذاق کاحکم مساوی ہو وہاں یہ علم شرط نہیں ہوگا بخلاف بیع جیسے امور کے (وہاں علم مذکور شرط ہے) (ت) |
ہاں مشائخ اوزجند نے اہل تلبیس کا مکرر رد کرنے کو مطلقًا عدم انعقاد فرمایا یعنی قضاء بھی حکم نہ دیں گے۔ بحرالرائق میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع