30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہی معنی ہیں اس قول کے کہ دارالاسلام میں جہل عذر نہیں، اور یہیں سے واضح ہوا کہ اگر ہمارے بلاد میں کوئی جاہل سا جاہل اپنی غیر مدخولہ عورت سے کہے تجھ پر طلاق ہے عورت فورا نکاح سے باہر ہوجائے گی اور بے حاجت عدت اسے اختیار ہوگا کہ جس سے چاہے نکاح کرلے اور اس کایہ مسئلہ نہ جانناکہ غیر مدخولہ مطلقًا ہر طلاق سے بائن ہوجاتی ہے اسے مفید نہ ہوگا، کسی نا خواندہ ہندی یا بنگالی کو اگر سکھائے کہ عورت سے کہہ: ترا از ز نی بہشتم (تجھ کو زوجیت سے نکال دیا۔ ت) یا طلقتك فالحقی باھلك (میں نے تجھے طلاق دے دی ہے تو اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا۔ ت) اور وہ نہ جانے کہ یہ کلمات طلاق کے ہیں عندالله طلاق نہ ہوگی کہ یہ جہل بالحکم جہل باللسان سے ناشی ہوا، اور جہل باللسان تقصیر نہیں، فارسی سیکھنا اصلًا اور عربی سیکھنا ہرشخص پر فرض نہیں، اسی سے امام محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا:
|
لابد من القصد بالخطاب بلفظ الطلاق عالما بمعناہ اوالنسبۃ الی الغایۃ کما یفیدہ فروع ١[1] الخ۔ |
لفظ طلاق سے خطاب کرتے ہوئے اس کے معنی کا علم یا غرض کی طرف نسبت ہوجیساکہ فروع نے افادہ کیا الخ (ت) |
یعنی علم بمعنی دوم طلاق بھی ضرور ہے، اگر وہ صورت پائی جائے کہ اس کے جہل میں معذور ہو جیسے جہل بالحکم بوجہ جہل باللسان تودیانۃً طلاق نہ ہوگی، نہر الفائق میں ہے:
|
اراد انہ شرط للوقوع قضاء ودیانۃ فخرج مالایقع بہ لاقضاء ولادیانۃ کمن کرر مسائل الطلاق ومایقع بہ قضاء فقط کمن سبق لسانہ لانہ لایقع فیہ دیانۃ [2]اھ ۴۰قلت فقولہ قضاء ودیانۃً ای معًا ای ھو شرط لان یقع دیانۃً ایضًا کما یقع قضاءً ولوبدونہ فافھم۔ |
ان کی مراد یہ ہے کہ وہ قضاءً ودیانۃً وقوع طلاق کے لیے شرط ہے تواس سے وہ صورت خارج ہے جس میں قضاءً ودیانۃً واقع نہ ہو، جیسے کوئی شخص مسائل طلاق کا تکرار کرے اور وہ صورت بھی خارج ہے جس میں صرف قضاءً واقع ہو،جیسے غلطی سے کہہ دیا ہو توا س میں دیانۃً واقع نہ ہوگی، اھ قلت اس کے"قول قضاءً و دیانۃ"کا مطلب یہ ہے کہ"قضاءً ودیانۃً"دونوں اکٹھی یعنی یہ شرط دیانۃً وقوع کے لیے بھی ہے جس طرح قضاءً بغیر دیانۃً کے لیے شرط ہے اسے سمجھو۔ ت) |
البتہ قاضی دعوٰی جہل نہ مانے گا اور حکم طلاق دے گا جب تك دلائل واضحہ سے اس کا عذر روشن نہ ہوجائے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع