30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقسام میں وضع نوعی ہے۔ امام اجل فخرالاسلام بزدوی قدس سرہ نے اصول میں فرمایاــ:
|
الھزل اللعب وھوان یراد بالشیئ مالم یوضع لہ وھو ضدالجد وھوان یراد بالشیئ ماوضع لہ ١[1]۔ |
ہزل (مذاق) ایسے کھیل کا نام ہے جس میں کسی چیز سے ایسی مراد لی جائے جس کے لیے وہ چیز وضع نہ کی گئی ہو، یہ جد (قصد) کی ضد ہے اور جد کسی چیز سے اس کا موضوع لہ مراد لینا ہے۔ (ت) |
امام جلیل عبدالعزیز بخاری اس کی شرح کشف کبیرمیں فرماتے ہیںـ:
|
لیس المراد من الوضع ھھنا وضع اللغۃ لاغیربل وضع العقل والشرع فان الکلام موضوع عقلا لافادۃ معناہ فی حقیقۃ کان اومجاز ا والتصرف الشرعی موضوع لافادۃ حکمہ فاذا ارید بالکلام غیر موضوعہ العقلی وھو عدم افادۃ معناہ اصلا وارید بالتصرف غیر موضوعہ الشرعی وھو عدم افادۃ الحکم اصلا فہو الھزل وتبین بما ذکرنا الفرق بین المجاز والھزل فان الموضوع العقلی للکلام وھوافادۃ المعنی فی المجاز مراد وان لم یکن الموضوع لہ اللغوی مرادا وفی الھزل کلاھما لیس بمراد وھو معنی مانقل عن الشیخ ابی منصور رحمہ اﷲ تعالٰی ان الھزل ما لایراد بہ معنی ٢[2]۔ |
یہاں وضع سے خاص وضع لغوی مرادنہیں بلکہ وضع عقلی وشرعی سب کو شامل ہے، کیونکہ عقلی طور پر کلام کی وضع اس لیے ہے کہ اپنے معنی کا فائد ہ دے چاہے معنی حقیقی ہو یا مجازی ہوا ور شرعی تصرف کی وضع اس کے حکم کے افادہ کے لیے ہے تو جب کلام سے ا س کا عقلی معنٰی یعنی افادہ مقصد مراد نہ ہو اور تصرف شرعی سے شرعی معنی یعنی حکم کاافادہ مراد نہ ہو تو اس کو ہزل کہتے ہیں، ہمارے بیان سے واضح ہوگیا کہ مجاز اور ہزل (مذاق) میں فرق ہے کہ مجاز میں عقلی وضع کے لحاظ سے معنٰی مراد لیا جاتا ہے اگرچہ لغوی معنی مراد نہیں ہوتا جبکہ مذاق میں دونوں معنوں میں سے کوئی بھی مراد نہیں ہوتا،ا ورشیخ ابومنصور رحمہ الله تعالٰی علیہ سے منقول کا یہی معنٰی ہے کہ مذاق وہ ہے جس سے کوئی معنٰی مرادنہ لیا جائے (ت) |
معنٰی بمعنی اول کا علم اصلًا ضرور نہیں ولہذا اگر عورت نے"زوجت نفسی منك بالف"اور مرد نے"قبلت"کہا اور دونوں زبان عربی سے محض نا آشنا تھے مگر اتنا اجمالًا معلوم تھا کہ یہ الفاظ عقد نکاحٍ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع