30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یا معشر الشباب من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج فانہ اغض للبصر واحصن للفرج ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وِجَاء[1]۔ |
اے گروہ نوجوانان! تم میں جسے نکاح کی طاقت ہو وہ نکاح کرے کہ نکاح پریشان نظری وبدکاری روکنے کا سب سے بہتر طریقہ ہے اور جسے ناممکن ہو اس پر روزے لازم ہیں کہ کسر شہوت نفسانی کردیں گے۔ |
یہی حکم وعلاج اس عجوبہ خلقت کے لیے ہوگا، اس کی نظیر وہ سوال ہے کہ جہال عرض تسعین کی نسبت کیا کرتے ہیں جہاں چھ مہینے کا دن اور چھ مہینے کی رات ہے کہ وہاں رمضان کے روزے کیسے رکھیں حالانکہ وہاں انسانی آبادی کا نام نہیں کہ اسی درجے عرض سے آگے لوگوں کا گزربھی نہیں کہ ہمیشہ کی ہر آن برف باری نے وہاں سمندر کو دلدل کر رکھا ہے، نہ پانی رہا کہ جہاز گزرے،نہ زمین ہوگیا کہ آدمی چلیں بلکہ ستر درجے آگے سے آبادی کا پتا نہیں، وہاں جبکہ چھ چھ مہینے دن رات ہیں بلکہ قطب شمالی میں چھ۶ مہینے نو دن کا دن اور نو دن سے کم چھ مہینے کی رات، اورقطب جنوبی میں بالعکس، اس لیے کہ اوج آفتابی شمالی اور حضیض جنوبی ہے اور اس کی رفتار اوج میں سست اور حضیض میں تیز ہے، پھر یہ نہا ر ولیل تنجیمی ہے، عرفی لیجئے تو نصف قطر آفتاب اور حصہ انکسار بڑھ کر مقدار نہار میں او ر بہت سے دن بڑھ جائیں گے ،اور نہار شرعی کے لیے اٹھارہ درجے کا انحطاط لیجئے تو کئی مہینے مقدار نہار میں شامل ہوکر رات بہت کم رہ جائے گی اوروہاں قمر وغیرہ کسی کوکب کا طلوع وغروب حرکت شرقیہ فلکیہ سے نہیں بلکہ صرف اپنی حرکت خاصہ سے جب منطقہ سے شمالی ہوگا قطب شمالی میں طلوع کرے گا اور جب تك شمالی رہے گا طالع رہے گا پھر جب جنوبی ہوگا غروب کرے گا اور جب تك جنوبی رہے گا غارب رہے گا اور اس ظہور وبطون کے لیے کوئی تعیین نہیں کہ قمر اس وقت اجتماع میں ہو یااستقبال میں تربیع میں ہو یاشکل ہلال میں، توسال کے بارہ دن رات جو قمر نے پائے ان میں حساب انتظام اہلہ وشہور نامقدور، اور اگر حکما صورت تقدیر واندازہ لیجئے بھی جس طرح دربارہ ایامِ طوال دجال نمازوں کے لیے ارشاد ہوا تو وہی قرآن عظیم جس نے
فَمَنۡ شَہِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلْیَصُمْہُؕ [2] (جو تم میں سے ماہ رمضان کو پائے تو اس کا روزہ رکھے۔ ت) فرمایا اس نے وَعَلَی الَّذِیۡنَ یُطِیۡقُوۡنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیۡنٍؕ (جو روزہ کی استطاعت نہ رکھے تو مسکین کا کھانا فدیہ میں دے۔ ت) ارشاد کیا یعنی جنھیں روزے کی قدرت نہ ہوان پر بدلہ ہے ہرروزے کے عوض ایك مسکین کاکھانا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع