30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الشھود ولاشہادۃ لمرتد کمافی الدرالمختار وغیرہ (کیونکہ صحت کے لیے گواہی شرط ہے اور مرتد شہادت دینے کا اہل نہیں ہے جیسا کہ درمختار میں ہے۔ ت) والله تعالٰی اعلم،
مسئلہ ٣٥: عورت مرد اگر باہم ایجاب وقبول کرلیں اور کسی کو اطلاع نہ ہوتو یہ نکاح ہوجائے گا؟
الجواب:
بے حضور د وگواہ نکاح فاسد ہے، حدیث میں فرمایاـ:
|
الزوانی ف اللاتی ان ینکحن انفسھن بغیر بینۃ [1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم |
زنا کار ہیں جو اپنی جانوں کو نکاح میں دیتی ہیں بغیر گواہوں کے۔ |
مسئلہ ٣٦: مسئولہ محمد یوسف از جبل پور ١٣ ذی قعدہ ١٣٢٥ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی غیر مقلد کسی مقلد کانکاح بموجب شرع مصطفوی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے پڑھادے تو اس کا پڑھایا ہوا نکاح جائز ہے یا حرام؟ اور جو اس نکاح سے اولاد پیدا ہو وہ حرامی تو نہ ہوگی؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
اگرچہ نکاح خواں شرع مطہر میں کوئی چیز نہیں، اگر کوئی ہندومشرك زوجین کو ایجاب وقبول روبروئے گواہان کرادے اور شرائط صحت متحقق ہوں نکاح ہوجائے گا۔ مگر یہاں ایك نکتہ جلیلہ ہے جسے وہی سمجھتے ہیں جوموفق من الله تعالٰی عزوجل ہیں وہ یہ کہ اگر ہندو مشرك پڑھا جائے گاتو کوئی کلمہ گوا سے معظم دینی بلکہ مسلمان بھی نہ جانے گا بخلاف ان کلمہ گویان کفردردل کے کہ عوام ان کو خالص مسلمان جانتے ہیں حالانکہ ان پر صدہا وجہ سے بحکم احادیث صحیحہ وتصریحات فقہیہ حکم کفرلازم ہے۔
|
کما فصلنا فی الکوکبۃ الشھابیۃ وفی النھی الاکید وغیرھما ولدی مزید۔ |
جیسا کہ الکوکبۃ الشہابیہ اور النہی الاکید وغیرہ رسائل میں ہم نے تفصیل بیان کردی ہے اور میری نظر میں مزید امور بھی ہیں (ت) |
اور ان میں بہت تو کھلم کھلا ضروریات دین کے منکر اور قطعًا اجماعًا مرتد کافر ہیں اور نکاح خوانی کے لیے لوگ اسے بلاتے ہیں جسے اپنے نزدیك صالح اور معتبر جانتے ہیں تو اگر زوجین میں سے کسی نے ان کے کفریات پر مطلع ہوکر پھران کو نیك اور صالح سمجھا توا ن پر بھی وہی حکم نقد وقت ہوگا کما صرح بہ فی الشفاء والاشباہ وغیرھما
[1] السنن الکبرٰی للبیھقی کتاب النکاح دارصادر بیروت ٧/١٢٥
ف: یہ حدیث سنن کبرٰی سے ملی اس میں الزوانی کے بجائے البغایا کالفظ ہے۔ نذیر احمد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع