30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
زید کا دعوٰی محض غلط ہے اس سے نکاح ہر گز صحیح نہ ہوا،
|
وان فرض ان کلام عمر و مع ام زید کان ایجابا وان دعاء ھا لہ قام مقام القبول لدلالۃ الرضا وان بعثہ حلیا للعرس کانہ اجازتہ لعقد الفضولی فعلی فرض کل ذٰلك لاوجہ للصحۃ فی الوجہ المذکور لعدم شاھد من الذکور۔ |
اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ عمرو کی والدہ سے بات کرنا ایجاب ہے اور والدہ مذکورہ کا عمرو کو دعائیں د ینا قبول کے قائم مقام ہے کہ یہ اظہار رضا مندی ہے، اور پھر زید کا زیور بھیجنا زید کی طرف سے فضولی کے عقد کی اجازت ہے بایں ہمہ مذکورہ صورت میں نکاح صحیح نہیں ہے کیونکہ اس عقد کا کوئی مردگواہ نہیں ہے۔ (ت) |
درمختار میں ہے:
|
شرطہ حضور شاھدین حرین اوحرو حرتین مکلفین [1]۔ |
نکاح منعقد ہونے کی شرط یہ ہے کہ دو مرد یا ایك مرد اور دو عورتیں عاقل بالغ اورحر، مجلس میں حاضر ہوں (ت) |
بحرالرائق میں ہے:
|
فلا ینعقد بحضرۃ العبید والصیبان ٢[2]۔ |
غلاموں اور بچوں کی موجودگی سے نکاح نہ ہوگا۔ (ت) |
خالد کا عقد صحیح ہوا۔
|
لان الا قدام علیہ فسخ للفاسدان قلنا بالفرق بینہ وبین الباطل فی النکاح کما ھو قضیۃ فروع جمۃ۔ |
ا س لیے کہ ا س کا یہ اقدام فاسدنکاح کے لیے فسخ قرار پایا ہے، جب ہم نکاح میں فاسد وباطل کے فرق کا قول کریں جیساکہ تمام فروع کا معاملہ ہے (ت) والله تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ٣٢: مسئولہ مولوی سید ظہور احمد صاحب از بیتھو شریف ضلع گیا ٢٥ ذی الحجہ ١٣٢٢ھ
ایك شخص کانکاح بحضور دو شخص کے عورت کی اجازت سے ہوا اور دونوں شخص چپ رہے، توایسی صورت میں نکاح درست ہوا یا نہیںـ؟ اور وکیل بالنکاح ایك شخص ثالث ہے اور وہ شخصین ناکح کوجانتے ہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع