30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مال میں کفاءت کو صر ف اس قدر کہ وہ شخص اگر پیشہ ور ہو تو روز کا روز اتنا کماتا ہو جو اس عورت غنیـہ کے قابل کفایت روزانہ دے سکے، اور پیشہ ورنہیں تو ایك مہینہ کا نفقہ دے سکے، اور مہر جس قدر معجل ٹھہر ے اس کے ادا پر قدرت بہرحال درکار ہے۔
|
فی الدرالمختار تعتبر الکفاءۃ فی العرب والعجم ما لابان یقدر علی المعجل ونفقۃ شہر لوغیر محترف و الا فان کان یکتسب کل یوم کفایتھا لو تطیق الجماع [1] ملخصًا۔ |
درمختار میں ہے کہ مال کے اعتبار سے عرب وعجم میں کفو کا اعتبار بایں طورہے کہ مہر معجل دینے اور ایك روزانہ کا نفقہ دینے پر قادر ہو جبکہ غیر کا روباری ہو ورنہ روزانہ کا خرچہ دینے پر قدرت رکھتاہو بشرطیکہ بیوی جماع کی قدرت رکھتی ہو ملخصًا (ت) |
پس اگر حامد اس قدر مال رکھتا ہو اورمذہب ونسب وحرفت وروش میں بھی محمودہ سے ویسا کم نہیں کہ اس سے نکاح باعث عار پدر محمودہ ہو، جیساکہ صورت سوال سے یہی ظاہر ہے کہ باپ پہلے اس سے نکاح پر راضی تھا اب صرف نوکری نہ رہنے کا عذر کرتا ہے توا س صورت میں برتقدیر صدق مستفتی دومرد یا ایك مرد دوعورتوں کے سامنے حامد اور محمودہ کے ایجاب وقبول کر لینے سے جائز وصحیح ہوجائے گا۔ نفس نکاح میں نقصان نہ ہوگا، ماں باپ کو ناراض کرنے کا وبال محمودہ پر ہو تو جدا ا مر ہے، والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ٣١: ضلع پشاور تحصیل صوابی ڈاکخانہ یار حسین موضع یعقوبی سید عیدشاہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی والدہ اور ہمشیرہ عمر و کے مکان پر بطور مہمان داری کے آئیں وسوئی تھیں، عمرو نے زید کی والدہ سے مخاطب ہوکر کہا کہ میں نے اپنی بیٹی تم کو دی ہے جس سے اس کا منشا یہ تھا کہ زید سے اس لڑکی کانکاح کریں گے، زید کی والدہ نے اس کے جواب میں عمرو کو دعائیں دیں اور قبول زبان سے نہیں کیا، بعدکو زید نے ایك چھوٹا سازیور بطور نشانی کے بنا کر عمرو کی بیٹی کے واسطے بھیجا، اور جس وقت عمرو نے اپنی بیٹی کا تذکرہ زید کی والدہ سے کیا، اس وقت زید کی والدہ اور ہمشیرہ اور عمروکی بیوی تھی یہ تین عورتیں موجود تھیں، اور سوائے عمرو کے اورکوئی مرد گھرمیں موجود نہیں تھا، نہ اس ایجاب کا قبول صراحۃً ہو ا نہ ذکر مہر ہوا اورنہ گواہ موجود تھے،پھر عمرو کے انتقال کے بعد عمرو کے لڑکے نے اس نابالغہ کا عقد خالد سے کیاا ور ابھی رخصت نہیں ہوئی ہے لیکن عقد مع گواہ اورذکر مہر کے ہوا ہے توا س صورت میں عقد خالد کا صحیح ہوا یا نہیں؟ اور زید مدعی اس بات کا ہے کہ نکاح مجھ سے صحیح ہے، بینوا توجروا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع