30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ٣٠: ١٨ ذی الحجہ ١٣١٨ھ
حال یہ ہے کہ حامد اور محمودہ دونوں میں ایسارشتہ تھا کہ محمودہ اس کے سامنے آسکتی تھی اور یہ دونوں ایك مدت تك صغر سنی میں ایك ہی جگہ رہتے سہتے تھے۔ ١٨٩٧ء میں حامد کی بیوی کا انتقال ہوگیا اوربرضا مندی فریقین (یعنی حامداور محمودہ) کے والدین کی نسبت محمودہ سے ہوگئی اورمراسم نسبت ادا ہونے کے بعد ایك تاریخ نکاح مقرر ہوگئی، لیکن اس تاریخ مقررہ پر حامد کو کہ وہ گورنمنٹ کا ملازم تھا اتفاق سے رخصت نہ ملی اور تاریخ مقررہ پر نکاح نہ ہوسکا، اس کے بعد کچھ جھگڑے ایسے درپیش ہوگئے کہ دوسری تاریخ مقرر ہونے سے پہلے حامداپنی ملازمت سے علیحدہ ہوا، اس کے بعد جب حامد کے والدین نے تاریخ مقرر کرنا چاہی تو محمودہ کے والدین نے یہ عذر پیش کیاکہ حامد اب بے نوکر ہے اس لیے ہم نکاح نہیں کرناچاہتے۔ حامد اور محمودہ دونوں بالغ ہیں، محمودہ تاریخ نسبت سے حامد سے پردہ کرتی ہے،جب یہ حال محمودہ کومعلوم ہوا تو اس نے اپنی والدہ سے صاف صاف کہہ دیا کہ میں دوسرے امیر گھر جانا پسند نہ کروں گی خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہوجس سے نسبت ہوئی اس سے نکاح ہو جانا چاہئے، محمودہ کے باپ واقعی امیرکبیر ہیں اور حامد ایك معمولی حیثیت کا آدمی ہے، محمودہ کے باپ یہ کوشش کرتے ہیں کہ محمودہ کا کسی امیر اور مالدار سے نکاح کردیں اور محمودہ کی رضامندی پر کوئی توجہ نہ کی جائے، اس لیے محمودہ یہ چاہتی ہے کہ قبل اس کے کہ یہ جبر اس پر کیا جائے وہ حامدکے ساتھ اپنا نکاح کرلے، مگرا س نکاح کا حال اس کے والدین کو نہ معلوم ہوا ور حامد بھی یہی چاہتا ہے، توعلمائے دین محمدی سے یہ امر دریافت طلب ہے کہ محض اگر گواہان اور وکیل کی موجودگی اور علم میں قاضی صاحب نکاح پڑھا دیں اور ازروئے شریعت ایجاب وقبول کا اطمینان کرلیں تو یہ نکاح خفیہ جائزہے اور کسی طرح ناقص تو نہیںـ؟ فقط۔
الجواب:
بالغہ جو بے رضائے ولی بطور خود اپنا نکاح خفیہ خواہ اعلانیہ کرے، اس کے انعقاد وصحت کے لیے یہ شرط ہے کہ شوہر اس کا کفو ہویعنی مذہب یا نسب یا پیشے یامال یا چلن میں عورت سے ایسا کم نہ ہو کہ اس کے ساتھ ا س کا نکاح ہونا اولیائے زن کے لیے باعث ننگ وعار وبدنامی ہو، اگر ایساہے تو وہ نکاح نہ ہوگا،
|
فی الدرالمختار ویفتی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا وھو المختار للفتوی لفساد الزمان [1] |
درمختا رمیں ہے کہ غیر کفو میں نکاح کے جائز نہ ہونےکا فتوٰی ہے کہ فساد زمان کی وجہ سے نکاح منعقد ہی نہ ہوگا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع