30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مانع شرعی موجودنہیں، پسر کاولی واسطے نکاح کے چار ماہ کی مہلت چاہتا ہے، اگر مہلت دی جائے تو شرعًا گنہگاری ہے یا نہیںـــ؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
کوئی گناہ نہیں جبکہ کوئی اندیشہ صحیح نہ ہو۔ اوراگر معاذالله اندیشہ ہے اور دوسرا کفو موجود ہے تو مہلت نہ دینا چاہئے، ا گر نہ مانے اس دوسرے سے نکاح کردیں جبکہ دختر رضامند ہو۔
|
لحدیث یا علی لاتؤخرثلثا الصلوۃ اذا حانت والجنازۃ اذا حضرت والایم اذا وجدت لھا کفوا١[1] اوکما قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اس حدیث کی بنا پر جس میں حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت علی رضی الله تعالٰی عنہ سے فرمایا: اے علی! تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو، نما زمیں جب وقت ہوجائے، جنازہ میں جب حاضر ہو، اور غیرشادی شدہ لڑکی میں جب اس کا کفو ملے۔ یا جیسے حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے۔ والله تعالٰی اعلم۔ (ت) |
مسئلہ ٢٧: ا ز ریاست رام پور سرشتہ پولیس مرسلہ سید جعفر حسین صاحب محرر سرشتہ ٢٠ محرم ١٣١٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیا ن شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے اس طور پرنکاح کیا کہ دو گواہوں اور ایك وکیل نے ہندہ کے پاس جاکر یہ کہا کہ بکر کے بیٹے زید نے ایك ہزار روپے کے بدلے میں تم کو اپنی زوجیت میں طلب کیا ہے یعنی خواستگاری کی ہے تم بھی ا س کو اپنی شوہریت میں قبول کرو اور مجھ کو وکیل قرار دو، تو ہندہ مذکورہ نے فقط لفظ"قبول"کہا (اور اس لفظ قبول کو اس ملك کے عوام وخواص قائم مقام ایجاب کے بنا بر عرف کے سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں) پھر اس طرح تینوں شخص زید کے پاس گئے اور وکیل نے زید سے جاکر کہا کہ تم نے خالد کی بیٹی ہندہ کو مہر مذکور پر قبول کیا تو زید نے صرف لفظ"قبول"کہا (اور اس قبول کو یہاں کے باشندے بمنزل قبول نکاح کے تصور کرتے ہیں اورہزاروں نکاح اس طور سے ہوگئے اور ہوتے ہیں اور آئندہ بھی ہوں گے کیونکہ یہ طور یہاں کا رسم ورواج قرار پایا ہے) اب اس صورت میں فقط لفظ"قبول"سے نکاح صحیح ہوگا یا نہیں؟ بعضے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ نکاح صحیح ہوجائے گا کیونکہ عاقل وبالغ کا کلام لغو کرنا نہ چاہئے ورنہ ہزاروں آدمی حرام زادہ قرار پائیں گے مسلمان کو زنا سے شرعًا بچانا چاہئے اور عرف اور رواج
[1] جامع الترمذی باب ماجاء فی الوقت الاول من الفضل نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ١/٥٢، سنن الکبرٰی للبیہقی کتاب النکاح باب اعتبار الکفاءۃ دارصادر بیروت ٧/١٣٣
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع