30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
آن کے میرسند [1]۔ انتہی |
نہیں رکھتے وہ اس کی لطافت تك کب پہنچ سکتے ہیں۔ (ت) |
یہ قول زید کا صحیح ہے یا نہیں ـ بینواتوجروا۔
الجواب:
بہتر ہونے میں کیا کلام کہ ذکر خدا ورسول جل جلالہ وصلی الله تعالٰی علیہ وسلم خیر محض ہے، خصوصًا تجدید ایمان، کہ ویسے بھی حدیث میں اس کا حکم ہے۔ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیںـ:
|
ان الایمان لیخلق فی جوف احدکم کما یخلق الثوب الخلق فاسئلوا اﷲ تعالٰی، ان یجدد الایمان فی قلوبکم [2]۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابن عمر بسند حسن والحاکم فی المستدرك عن عمر وبسند صحیح رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔ |
بیشك ایمان تم میں کسی کے باطن میں پرانا ہوجاتا ہے جیسے کپڑا کہنہ ہوجاتا ہے توا لله عزوجل سے مانگوکہ تمھارے دلوں میں ایمان کو تازہ فرمائے، (اسے طبرانی نے کبیرمیں ابن عمر رضی الله تعالٰی عنہ سے سند حسن اور حاکم نے مستدرك میں حضرت عمرو رضی الله تعالٰی عنہم اجمعین سے سندِ حسن کے ساتھ روایت کیا۔ ت) |
اور فرماتے ہیں صلی الله تعالٰی علیہ وسلم:
|
جدد وا ایمانکم اکثر وامن قول لاالٰہ الااﷲ [3]۔ رواہ الامام احمد والحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند صحیح۔ |
اپنے ایمان تازے کرو لاالہ الااﷲ بکثرت کہو۔ (اس کو امام احمد اور حاکم نے ابوھریرہ رضی الله تعالٰی عنہ سے سند صحیح کے ساتھ روایت کیا۔ ت) |
تو اس قدر ضرور مسلم کہ اس کو کرنا چاہئے، ہاں بہت ضروری کہنانوعِ افراط سے خالی نہیں جہلًا یاسہوًا معاذا لله کلمہ کفر صادر ہوجانا محتمل سہی مگراسے مظنون ٹھہرالینا سوئے ظن ہے اور بے حصول ظن حکم ضرورت نہیں، کما لایخفی والله سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٦: ٢٧ ربیع الاول شریف ١٣١٧ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دختر زید بعمر سترہ١٧ سال وپسر عمرو بعمر تئیس۲۳ سال ہے اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع