30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فتاوٰی قاضی خاں وظہیریہ ودرمختار وردالمحتار پر شبہہ اور اس کا جواب۔ |
٢٢٣ |
غالب یہی ہے کہ آدمی الفاظ زبان غیرمفہوم کے مقاصد پر بھی مطلع نہیں ہوتا۔ |
٢٢۷ |
|
مفہوم لفظ ، لغوی، شرعی، عرفی، حقیقی اور مجازی کی طرف مقسوم ہوتا ہے جبکہ حکم لفظ، غرض، غایت، مقصود اور ثمرہ وغیرہ سے موسوم ہوتا ہے اور ان دونوں پر لفظ کے معنی، مضمون حتی کہ موضوع لہ کا بھی اطلاق آتا ہے اگرچہ اول کے بعض اقسام میں وضع نوعی ہے۔ |
٢٢٥ |
دارالاسلام میں جہل عوارض مکتسبہ میں سے ہے۔ |
٢٢٨ |
|
ہزل، جد کی ضد ہے۔ |
٢٢٦ |
نشہ میں طلاق ہوجاتی ہے۔ |
٢٢٨ |
|
ہزل لعب ہے یعنی شئے سے اس کے غیر موضوع لہ کا ارادہ کرنا۔ |
٢٢٦ |
کوئی شخص دارالحرب میں مسلمان ہوا ابھی دارالاسلام کی طرف ہجرت نہیں کی تو اس پر شرائع اسلامیہ کالزوم نہیں کہ اس کےلئے جہل عذر ہے۔ |
٢٢٨ |
|
جدیہ ہے کہ شئے سے اس کے موضوع لہ کا ارادہ کیا جائے۔ |
٢٢٦ |
آبادی میں پانی تلاش کئے بغیر تیمم کرکے نماز پڑھ لی، اگر وہاں پانی تھا تو نماز نہ ہوگی۔ |
٢٢٨ |
|
ہزل اور مجاز میں فرق۔ |
٢٢٦ |
غیر مدخولہ ایك طلاق سے مطلقًا نکاح سے باہر ہوجاتی ہے اور بغیر عدت جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے اور اس جگہ مسئلہ سے ناواقف ہونا عذر نہیں۔ |
٢٢٩ |
|
عورت نے کہا زوجت نفسی منك بالف،ا ور مرد نے کہا قبلت۔ اور دونوں زبان عربی سے محض ناآشنا تھے مگر اتنا اجمالًا معلوم تھا کہ یہ الفاظ عقد، نکاح کےلئے کہے جاتے ہیں تو باتفاقِ علماء نکاح ہوگیا۔ |
٢٢٦ |
فارسی یا عربی نہ جاننے والے کو کسی نے الفاظ طلاق فارسی یا عربی میں سکھادئے اور معنی نہ بتائے اس نے یہ الفاظ لاعلمی سے عورت کےلئے کہے تو عنداﷲ طلاق نہ ہوگی۔ |
٢٢٩ |
|
اگر ناآشنایانِ عربی نے بعتُ اشتریت بقصد بیع وشراکہا اور جانتے تھے کہ یہ الفاظ عقد بیع کے ہیں تو ضرور بیع ہوجائے گی۔ |
٢٢٧ |
جہل باللسان تقصیر نہیں۔ |
٢٢٩ |
|
بعدعلم حکم بقصد حکم الفاظ کا تحاوردلیل مراضاۃ ہے۔ |
٢٢٧ |
مذاق اور دل لگی میں طلاق دینے سے قضاءً اور دیانۃً ہر طرح طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ |
٢٣٠ |
|
نفیس وخسیس میں بیع بالتعاطی منعقد ہوجاتی ہے فقہاء مظنہ غالبہ شئی کو قائم مقام شئی کرتے ہیں۔ |
٢٢٧ |
اگر عورت کو مرد نے ایسے الفاظ سکھائے اور کہلوائے جس سے مہر ونفقہ عدت کے بدلے خلع ہوجائے کہ عورت مہر ونفقہ عدت کی بھی مستحق نہ رہے اور عورت یوں خلع کرے تو خلع صحیح نہ ہوگا۔ |
٢٣١ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع