30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اوامرأۃ انھما ارتضعا من امرأۃ واحدۃ قال فی الکتاب احب الی ان یتنزہ فیطلقھا ویعطیھا نصف المھر ان لم یدخل بھا ولایثبت الحرمۃ بخبر الواحد عندنا مالم یشھد بہ رجلان اورجل وامرأتان [1]۔ |
مرد یا عورت نے یہ خبر دی کہ ان میاں بیوی نے ایك عورت کا دودھ پیا ہے، تو امام قاضی خان نے کتاب میں فرمایا کہ میرے نزدیك بہتر یہ ہے کہ وہ شخص بطور احتیاط عورت کو طلاق دے دے اور دخول نہ کیاہو تو نصف مہر ادا کرے، جبکہ رضاعت کی حرمت ایك شخص کی خبر سے ثابت نہیں ہوتی جب تك دو مرد، یاایك مرد دو عورتیں شہادت نہ دیں حرمت ثابت نہ ہوگی۔ (ت) |
ایسے امر سے بچنے کے لیے جان دینے کی اجازت ہر گزنہیں ہوسکتی کہ جان کا رکھنا ہر فرض سے اہم فرض ہے بلکہ اہل وعیال کوچھوڑ کر جلا وطنی وغیرہ امور بھی کہ خود گناہ یا منجربہ گناہ ہوں جائز نہیں ہوسکتے۔
|
اذلیس من قضیۃ الشرع الکریم والعقل السلیم درء شی خفیف بارتکاب ثقیل عظیم۔ |
شریعت مطہرہ اور عقل سلیم اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ معمولی چیز کو کسی عظیم اور بھاری چیز کے ارتکاب سے ختم کیا جائے۔ (ت) |
یہاں تقوٰی بمعنٰی اتقائے شہادت ہے وہ صرف مستحب ہے، نہ فرض وواجب، علماء فرماتے ہیں:
|
لیس زماننا زمان اجتناب الشبھات [2]، کمافی الاشباہ وغیرہ عن الخانیہ والتجنیس وغیرھما۔ |
جس طرح اشباہ وغیرہ میں خانیہ اور تجنیس کے حوالے سے ہے کہ ہمار ا زمانہ شبہات سے بچاؤ کا زمانہ نہیں ہے۔ (ت) |
زید وغیرہ کی اس درخواست سے تقوٰی کی اہانت نہیں نکلتی بلکہ اس احتیاط کا غیر ضروری ہونااور اس قدر ضرور صحیح ہے، ہاں ا س سے درکنار اگر بالجبر ہوتوہم لکھ چکے ہیں کہ مسلمان پر جبر واکراہ کسی امر مباح میں حرام وظلم ہے نہ امر غیر مستحب میں، مگر اس پر جان نہیں دے سکتے، البتہ صورت اولٰی میں یعنی جبکہ واقع میں نکاح باطل ہو ا اور زید جھوٹی گواہیاں دلواکر بالجبر بلانکاح چھین لے جانا _______ یا بالجبر اس کے ساتھ کوئی فعل ناجائز کرنا چاہے ا س وقت اگرچہ اپنے ناموس کی حفاظت جائزہ کرے جو شرعًا وعقلًا وعرفًا ہر طرح ا س کاحق ہے اور ظالم اسے قتل کردے تو یہ شہید ہوگا، رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من قتل دون مالہ فھو شہید ومن |
جو اپنا مال بچانے میں مارا جائے وہ شہید، جو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع