30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والعتاق والنکاح والتدبیر والاستیلاد والنذور فھو لازم کذافی الکافی[1] اھ وتمامہ فی ردالمحتار قبیل قولہ وشرط حضور شاھدین[2] الخ اقول: واما قول الھندیۃ رضا المرأۃ اذکانت بالغۃ[3] الخ فقد کتبنا علی ھامشہ مانصہ ای اذنھا قو لاوفعلا صریحا اودلالۃ ولو جبرا وکرھا ھکذاینبغی ان یفسرھذا المقام۔
|
مثلًا طلاق، عتاق، نکاح، مدبر بنانا، ام ولد بنانا اور نذر تو یہ امور لازم ہوجائیں گے، جیسا کہ کافی میں ہے اھ اس کی تمام بحث ردالمحتار میں ہے، ان کے قول"گواہوں کی موجودگی شرط ہےـ"سے تھوڑا پہلے ہے الخ اقول: ہندیہ کا قول جوکہ انھوں نے خانیہ سے نقل کیا نکاح کی شرائط میں، جن میں سے ایك یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ عورت کی رضا الخ توہم نے اس کے حاشیہ پر لکھا ہے جس کی عبارت یہ ہے یعنی اس کی اجازت قول، فعلِ صریح یا دلالت سے ہوجاتی ہے اگرچہ بطور جبر ہو، اس مقام کی یونہی تفسیر مناسب ہے۔ (ت) |
مگر کسی کی بیٹی کو جبرًا بلا نکاح لے جانا پھر بالجبر نکاح کرنا ظلم پر ظلم اور مسلمان کو عار لاحق کرناہے۔
|
قال اﷲ تعالٰی لَاۤ اِکْرَاہَ فِی الدِّیۡنِ ۟ۙ[4]۔ |
الله تعالٰی نے فرمایا: دین میں جبر نہیں ہے۔ (ت) |
حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیںـ:
|
لایحل لمسلم ان یاخذ عصا اخیہ بغیر طیب نفس منہ [5]۔ رواہ ابن حبان فی صحیحہ عن ابی حمید الساعدی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
مسلمان کو حلال نہیں کہ اپنے بھائی مسلمان کی لکڑی بغیراس کی دلی مرضی کے لے لے (اس کو ابن حبان نے صحیح میں ابوحمید الساعدی رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت) |
جب بے مرضی لکڑی لینی حرام ہے لڑکی یعنی کس درجہ حرام واشدحرام ہوگی، رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
[1] فتاوٰی ہندیہ کتاب الاکراہ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ٥/٣٨
[2] ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٢٧٢
[3] فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ١/٢٦٩
[4] القرآن ٢/٢٥٢
[5] مورد الظمآن الٰی زوائد ابن حبان کتاب البیوع باب ماجاء فی الغصب حدیث ١١٦٦ المطبعۃ السلفیہ بالروضۃ ص٢٨٣
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع