30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اس نے دے دئے تو یہ نہ کہا جائے گا کہ عمرو زبان دے چکا،ہاں نہ دئے اور دینے کا وعدہ کرلیا تو یہ لفظ بولنا صحیح ہوگا، پس ثابت ہوگیا کہ مخطوب منہ کا وہ کلام محض اجابت تھا نہ کہ لفظ ایجاب وشتان بینھم (دونوں میں فرق ہے۔ ت) ایك وجہ تو عدم نکاح کی یہ ہوئی اوریہیں سے دوسری وجہ بھی ظاہر ہے کہ جب کلام خاطب باعلی ندا منادی کہ وہ سخن مخطوب منہ کا محصل اقدام العقد نہ سمجھا تھا بلکہ محض اقرار و وعد جانا تو اب اس کا یہ کہنا بھی کہ"بہتر ہم کو منظور"برسبیل قبول وتزویج نہ تھا بلکہ اس کی اجابت پر اپنی خوشی کا اظہا رتھا تو اگر فی الواقع مخطوبہ منہ کے وہ الفاظ ایجاب ہی ٹھہریں تاہم مفقود ہے اور جملہ اخیرہ کہ"آپ نے زبان دی تو میری تسکین ہوگئی"مفسر مرادموجود جس کے سبب لفظ اول صریح قبول ٹھہراکر الفاظ اورنیت کا الغا نہیں کرسکتے اور اس کے سوابعض وجوہ اور بھی پیدا ہوسکتے ہیں جو عدم انعقاد نکاح پردلالت کریں۔
|
کمالایخفی علی ماھر الفقیہ وفیما ذکرنا کفایۃ للنبیہ۔ |
جیساکہ مخفی نہیں، ماہر فقیہ پر، اور ہم نے جو ذکر کردیا ہے وہ عالم کو وضاحت کے لیے کافی ہے۔ (ت) |
بالجملہ نہ الفاظ مخطوب الیہ ایجاب کے قابل نہ جانب خاطب سے قبول حاصل، نہ مخطوبہ حبالہ نکاح خاطب میں داخل، نہ غیر سے تزویج ناروا وباطل، رہا مخطوب منہ پر گناہ، وہ بھی اسی وقت تك ہے کہ اس نے بلاوجہ یا کسی رنجش دنیوی کے سبب تزویج خاطب اول سے اعراض کیا ہو، اور اگر درحقیقت کوئی عذر مقبول پیدا ہوا اور اس نکاح میں اس نے حرج شرعی سمجھا اور خاطب ثانی کو حق دختر میں بہتر جانا تو شرع مطہر ہرگز اس پر دلیل لازم نہیں کرتی کہ تواپنی زبان پالنے کے لیے محذورشرعی گوارا یا دیدہ ودانستہ بیٹی کے حق میں بر اکر، نیك و بد پر کامل نظر ذمہ پدر واجب وضرور، ا ور آدمی نہ تبدیل رائے سے محفوظ ومصون، نہ کسی وقت بعض مصالح پر نہ اطلاع پانے پر مامون، یہ توصرف اقرار ہی تھا، ہمارے حضور رحمۃ للعالمین صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے تودربارہ قسم ہمیں حکم دیا ہے کہ اگر تم کسی بات پر قسم کھا بیٹھو پھر خیال میں آئے کہ اس کاخلاف شرعًا بہتر ہے تو اس بہتری پرعمل کر واور قسم کا کفارہ دے دو۔
|
فقد اخرج الامام احمد ومسلم فی صحیحہ و الترمذی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من حلف علی یمین فرأی غیرھا خیرا منھا فلیات الذی ھو خیر ولیکفر عن یمینہ [1]۔ |
امام احمد نے اور امام مسلم نے اپنی صحیح میں اورامام ترمذی نے ابوھریرہ رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی قسم کھائی اور ا س نے اس قسم کے خلاف کو بہتر جانا تو بہتر کو اپنا لے اور اپنی قسم کا کفارہ دے۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع