30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
شیئا من الحلی والبسہ لابنتہ فلم ترض البنت بالخطبۃ و ردتھا فھل یسوغ لھا ذٰلك ولاتکون الخطبۃ واقعۃ موقع عقد النکاح اصلا الجواب حیث لم یجر بینھما عقد نکاح شرعی بایجاب وقبول شرعیین لاتکون الخطبۃ واقعۃ موقع عقدالنکاح اصلا [1]۔ |
اس نے لڑکی کے باپ کوکچھ زیور دئے اور لڑکی کو کپڑا پہنایا تو لڑکی نے منگنی پر رضامندی سے انکار کردیا اور منگنی کو رد کردیا تواس صورت میں کیا لڑکی کو ردکا اختیار ہے اور کیا یہ منگنی نکاح کے قائم مقام نہ ہوگی؟ جواب: شرعی طورپر یہ قبول وایجاب کے ساتھ نکاح نہ ہوا اور یہ منگنی نکاح کے قائم مقام نہ ہوگی۔ |
اوریہ لفظ کہ میں نے لڑکی آپ کو دی ہر چند کنایات تزویج سے ہے مگر مجلس عقدمیں عقدقرار پاتاہے اور مجلس وعد میں وعد۔
|
فی ردالمحتار عن فتح القدیر عن شرح الطحاوی لوقال اعطیتنیھا فقال اعطیت ان کان المجلس للوعد فوعدوان کان للعقد فنکاح ٢[2] اھ واقرہ العلامۃ العلائی والفاضل الرحمتی والسید الطحطاوی و غیرہم رحمہم اﷲ تعالٰی۔ |
ردالمحتار میں فتح القدیر کے حوالے سے طحاوی کی شرح سے منقول ہے کہ اگر کسی نے دوسرے کوکہا کہ تو نے لڑکی مجھے دی، جوا ب میں اس نے کہا کہ میں نے دی ، تو اگر بات مجلس نکاح میں ہے تو نکاح ہے اور وعد(منگنی) کی مجلس ہے تومنگنی ہوگی اھ اس کو علامہ علائی، فاضل رحمتی، سید طحطاوی وغیرہم رحمہم الله تعالٰی نے ثابت رکھا۔ (ت) |
اوپر ظاہر ہواکہ وہ مجلس مجلس نکاح نہ تھی ا ورخاطب کا اس وقت مع چند ہمراہیوں کے جانا بات ٹھہرانے اور وعدہ لینے اوررضامندی حاصل کرنے ہی کے طور پرتھا توپدرمخطوبہ کے وہ الفاظ بھی وعدہ ہی پرمحمول ہوں گے نہ عقد پر، یہاں تك کہ خود خاطب کے کلام سے واضح وروشن کہ وہ بھی ان کلمات کو اقرار نکاح واظہار رضا وقبول خطبہ ہی سمجھا نہ ایجاب وتزویج کہ اس نے جواب میں کہا: بہتر ہم کو منظور ہے، جب آپ نے میرے خطبہ کو منظور کیا اور زبان دی تو میری تسکین ہوگئی اور ہر عامی جانتا ہے کہ ہماری زبان میں زبان دینا کسی کام کے وعدہ کو کہتے ہیں نہ کہ اس کے ایقاع واصدار کو، زید نے اگر عمرو سے کچھ روپے مانگے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع