30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یمنع الخلوۃ لانہ یمنع الجماع وذکر فی طلاق الاصل ان العدۃ یجب علی الرتقاء ای فلھا نصف المھر [1] انتھی وفیھا من فصل خیارات النکاح ومنھا خیار العیب وھو حق الفسخ بسبب العیب عندنا لایثبت فی النکاح فلاترد المرأۃ بعیب ما و قال الشافعی لہ ان یرد بالقرن والرتق و یفسخ النکاح فان رد قبل الدخول یسقط کل المھر والامھر المثل کماھو حکم الفسخ [2] انتھی مع التلخیص،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
قبل طلاق دی ہو اھ فتاوٰی قاضی خاں میں ہے کہ رَتَق،خلوت کے لیے مانع ہے کیونکہ یہ جماع کے لیے مانع ہے،اور اصل(مبسوط) کی بحث طلاق کے بیان میں ہے کہ رتقا،عورت پر عدت واجب ہے اور اس کے لیے نصف مہر ہوگا اھ اور اصل کی بحث اختیارات نکاح میں ہے کہ خیار عیب جس کو عیب کی وجہ سے حقِ فسخ کہتے ہیں،ہمارے ہاں نکاح کے باب میں ثابت نہیں،لہذا کسی عیب کی وجہ سے عورت کو رَد نہیں کیاجائے گا۔اور امام شافعی نے فرمایا کہ قرن اور ر تق والےعیب کی وجہ سے مرد کو فسخ کا اختیار ہے پس اگر قبل از خود دخول رَد یافسخ کردے توتمام مہر ساقط ہوجائے گاورنہ پورا مہرمثل عورت کا حق ہے جیساکہ فسخ کا حکم ہے اھ ملخصا۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ١٩: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی عورت طوائف کسی مرد آشنا کے ساتھ پردہ میں حسب دستور عیاشیوں کے جو بغرض مفید رکھنے اور نہ ملتفت ہونے اس کے ساتھ دوسرے مرد کے، پردہ میں رکھتے ہیں ہم خانہ رہی ہو ، وہ عورت شرعا زوجہ تصور کی جائے گی یا نہیں ؟اور اگر زوجہ تصور کی جائے گی تو ایسے ہم خانہ رہنے کے واسطے کوئی مدت مقرر ہے یا نہیں ؟اور ہے تو کس قدر مدت ہے ؟بینو ا توجروا
الجواب:
صورت مسئولہ میں پردہ اس طوائف کا صرف ان لوگوں سے جن سے احتمال موافقت کا ہو معتد بہ نہیں ،ایسا پردہ ثبوت نکاح کی دلیل نہیں ہو سکتا ،البتہ اگر وہ مرد وزن مثل زوج وزوجہ رہتے ،اور جو لوگ ان کے حالات خانگی سے واقف ہیں انھیں زوج وزوجہ تصور کرتے ہوں تو شرعًا زوج زوجہ قرار پائیں گے نہ کہ زانی وزانیہ کہ مسلمان کی طرف بدکاری کی نسبت بے ثبوت شرعی ہرگز جائز نہیں، شارع نے جس قدر احتیاط اس بارے میں فرمائی دوسرے معاملہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع