30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وکونہ فی مسجد یوم جمعۃ بعاقد رشید الخ ١[1]. |
مسجد میں ہونا،جمعہ کا دن ہونا اور نکاح کرنیوالا صاحب رشد یعنی صاحب علم وعمل ہونا مستحب ہے الخ۔(ت) |
۳۶اقول: الرشد ینتظم العلم والعمل(رشد علم اور عمل دونوں کو جامع ہے۔ت) ا س زمانہ جہل وفسا د میں اکثر وہ صورت رائج ہے کہ اگر اہل علم حاضر جلسہ نہ ہوں تو نکاح میں سخت خلل واقع ہونے کا اندیشہ ہے یعنی دولھن سے زیدکے لیے صرف وکالت نکاح لی،یہ تصریح نہ کرائی کہ اسے دوسرے کو وکیل کردینے کا بھی اختیار ہے۔اب زید وکیل جو شرعًا صرف نکاح پڑھانے کا مجاز ہوا وہ خودنہیں پڑھاتا بلکہ قاضی کوئی اور صاحب باہر بیٹھے ہیں ان سے آکرکہتاہے مجھے فلاں عورت نے اپنے نکاح کا وکیل کیا،دو گواہ گواہی دیتے ہیں،وہ تو اتنا کہہ کر الگ ہوگیا،اب قاضی جی نے نکاح پڑھایا،یہ نکاح ہر گز نہ ہوا کہ نہ خود عورت نے ایجاب وقبول کیا نہ اس کے وکیل ماذون نے بلکہ ایك اجبنی شخص نے کہ اول تو وکیل کا اپنی وکالت سے خبر دینا اس قاضی کو اپنی طرف سے وکیل کرنا نہیں،اور ہو بھی تو صحیح مذہب میں وکیل نکاح کو دوسرے کے وکیل کرنے کا بے اذن موکل اختیار نہیں۔
|
فی الدر عن البحر لیس للوکیل(ای فی النکاح) ان یؤکل بلااذن [2] وفی وکالۃ غمزالعیون عن الولوالجیہ لووکل رجلافی نکاح فوکل الوکیل غیرہ ذکرہ محمد فی الاصل انہ لایجوز فانہ قال اذا فعل الثانی بحضرۃ الاول لم یجز وھوا لصحیح ٣ [3]اھ ملخصًا۔ |
نکاح کے وکیل کو جائز نہیں کہ وہ بغیر اجازت اس میں کسی دوسرے کو وکیل بنائے،یہ بحر کے حوالے سے دُر میں مذکور ہے اھ غمز العیون کی وکالت کی بحث میں ولوالجیہ سے منقول ہے کہ اگرایك نے کسی کونکاح کا وکیل بنایا تو وکیل نے کسی دوسرے کو از خود وکیل بنالیا توا مام محمد رحمہ الله تعالٰی نے اصل یعنی مبسوط میں ذکر کیا کہ یہ جائز نہیں،انھوں نے فرمایا کہ پہلے کی موجودگی میں دوسرے وکیل نے کارروائی کی توجائز نہیں ہوگی،یہی صحیح ہے اھ ملخصا(ت) |
تویہ نکاح نکاحِ فضولی ہوا اور اجازت زنِ بالغہ پر موقوف رہا،اگر خبر پر نفرت وکراہت ظاہر کی،جیساکہ اکثر دخترانِ دوشیزہ سے ایساہی واقع ہوتا ہے،جب تو ڈھول سے کھال بھی گئی،اب وہ نکاح یکسر باطل ہوگیاکہ آئندہ اجازت سے بھی جائز نہیں ہوسکتا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع