30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
و وھبت وتصدقت وجئتك خاطبا وجعلت نفسی لك وبعت [1]۔ |
کردیا،تجھے مالك بنادیا،ہبہ کیا،صدقہ کیا،میں رشتہ لینے آیاہوں،میں نے اپنا نفس تجھے دیا،فروخت کیا۔(ت) |
۳۴اقول: وبالله التوفیق فقہ اس میں یہ ہے کہ جئتك خاطبا(میں رشتہ لینے آیا ہوں۔ت) کسی خطبہ متقدمہ سے اخبار نہیں بلکہ انشائے طلب وتزویج ہے اور انشائے طلب عین حاصل امر،تو جئتك خاطبا بمعنٰی زوجنی ہے۔ ولہذابزازیہ میں ان دونوں کا ایك حکم رکھا۔
|
حیث قال جاء رجل فقال زوجنی بنتك ا وجئتك خاطبا ا وجئتك تزوجنی بنتك فقال زوجتك فالنکاح واقع لازم ولیس للخاطب ان لایقبل [2]۔
|
جیسا کہ انھوں نے ذکر کیا کہ ایك آدمی نے آکر کہا کہ تواپنی بیٹی مجھے نکاح کردے یا میں آپ کے پاس رشتہ لینے آیا ہوں،یا،میں اس لیے آیاہوں کہ آپ مجھے اپنی بیٹی بیاہ دیں،تو باپ نے کہا میں نے بیاہ دی،تو ان الفاظ سے لازمی نکاح ہوجائے گا،اب رشتہ طلب کرنے والے کوقبول نہ کر نے کی کوئی گنجائش نہیں۔(ت) |
ا ور"زوجنی"الفاظ مفیدہ عقد سے ہے
|
توکیلا ا و ایجابا علٰی اختلاف قولین والاولی عــــہ اظھر عندی کما بیناہ فیما علقناہ علی ہامش ردالمحتار تو اسی طرح جئتك خاطبا۔ |
وکیل بناتے ہوئے یا ایجاب کے طور پر دونوں اقوال کے اختلاف پر،اور پہلا یعنی وکیل بناتے ہوئے میرے نزدیك اظہر ہے،جیسا کہ ہم نے اس کو ردالمحتار کے حاشیہ پربیان کیا ہے تو اسی طرح،میں تیرے پاس رشتہ لینے آیا ہوں۔(ت) |
بالجملہ لفظ خطبہ باضافت بیانیہ بعد تحقق نیت وقیام قرینہ الفاظ عقد سے ہے نہ الفاظ خطبہ باضافت لامیہ یعنی وہ الفاظ کہ شرعًا خطبہ قرار پائیں نہ کہ وہ الفاظ کہ صراحۃً اخبارہوں اور معنٰی انشاء سے منزلوں دور کما لایخفی علی ذی شعور (جیسا کہ اہل شعور پر مخفی نہیں۔(ت)رہا نکاح میں عدم جریان مساومت ۳۵اقول:وبالله التوفیق اس کا منشاء خود یہی ہے کہ عادۃ نکاح
عــــہ: انظرہ مع ما اذکرہ ۱۲ منہ(م)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع