30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
غیر الاثبات ذکرہ فی التخییر وقال فی مختارات النوازل ھوالمختار [1]۔ |
ا ور ا ظہار و اثبات دو مختلف چیزیں ہیں،اس کو تخییر میں ذکر کیا ہے،اور مختارات النوازل میں کہا کہ یہی مختار ہے۔(ت) |
ہندیہ میں ہے : الصحیح انہ لایکون نکاحا کذا فی الظہیریہ [2](صحیح یہی ہے کہ نکاح نہ ہوگا جیسا کہ ظہیریہ میں ہے،ت) وجیز کردری میں ہے: لاینعقد فی المختار الصحیح [3](مختار اور صحیح قول کے مطابق نکاح منعقد نہ ہوگا۔(ت)علاوہ بریں دینا،عطا،ہبہ،یہ الفاظ خودہی نکاح میں صریح نہیں کنایہ ہیں اور عقد و وعد دونوں کو محتمل،منگنی ہونے پر بھی عرف شائع میں کہا جاتا ہے کہ فلاں نے اپنی بیٹی فلاں کو دی،ولہذا علماء تصریح فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ بہ نیت خطبہ کہے جائیں تو خطبہ ہی ٹھہرے گا مجلس وعد میں صادر ہوں تو وعدہ ہی قرار پائے گا۔درمختار میں ہے:
|
لفظ ترویج ونکاح صریح وماعداھما کنایۃ وھو کل لفظ وضع لتملیك عین کاملۃ فی الحال کھبۃ وتملیك وصدقۃ وعطیۃ بشرط نیۃ اوقرینۃ وفھم الشھود المقصود [4] اھ ملتقطا۔ |
نکاح میں لفظ"ترویج"اور"نکاح"صریح ہیں۔ان کے علاوہ باقی سب کنایہ ہیں،اور کنایہ کے لئے وہ تمام الفاظ ہیں جو بروقت کسی کامل چیز کی تملیك کے لیے ہوں،مثلا ہبہ،صدقہ،عطیہ اور تملیك کے الفاظ جب نکاح کی نیت سے استعمال ہوں یا اس پر قرینہ موجود ہو اور اس سے گواہ بھی مقصد کو سمجھ سکیں اھ ملتقطا(ت) |
خانیہ میں ہے:
|
اذا قال لاب البنت وھبت ابنتك منی فقال وھبت فقال قبلت قالوا ان کان ھذا القول من الخاطب علی وجہ الخطبۃ ومن الاب ایضا علی وجہ الاجابۃ لاعلی وجہ العقد |
جب ایك لڑکے نے لڑکی کے باپ کو کہا کہ آپ نے اپنی لڑکی مجھے ہبہ کی تو باپ نے جواب میں کہا کہ میں نے ہبہ کی،اس کے بعد پہلے نے کہا میں نے قبول کی،فقہاء کرام نے فرمایا اگر منگنی کرنے والے اور باپ نے مذکورہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع