30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آیا اس عبارت منقولہ سے منگنی نکاح ہوسکتی ہے؟ اگر ہوسکتی ہے تو فھو المراد والااس عبارت کا کیا مطلب؟
الجواب:
ارشادات علمائے کرام میں نظر سے واضح کہ کلمات مذکورہ فی السوال انعقاد نکاح کے لیے اصلا کافی نہیں،عمر و عبدالله دونوں کے کلام صراحۃً اخبار ہیں کہ ہماری زبان میں صیغہ ماضی مقرون بلفظ ہے خاص امر واقع شدہ سے خبر دینے کے لیے ہے نہ امر غیر واقع کے انشاء وایجاد کو،پھر کلام عمر وسخن ا بتدائی نہیں،اہل برادری کے اس باز پرس کا جواب ہے کہ ہماری طلبی کی کیا وجہ تھی،پُر ظاہر کہ اس سوال کا جواب اخبار ہوگا۔نہ کہ انشائے ایجاب یوں ہی کلام عبدالله کا سیاق بھی کہ ہاں دی ہے،اورآپ کی تکلیف دہی کی یہی وجہ ہے صاف صاف اسی معنٰی اخبار وبیان وجہ جمع کی تاکید کرر ہا ہے کما لایخفی علی العارف باسالیب الکلام(جیسا کہ کلام کے اسلوب کو سمجھنے والے پرمخفی نہیں۔ت) اور شك نہیں کہ وقوع نکاح سے خبردینا انشائے عقد سے بالکل مبائن وغیرمؤثرہے،اگربنظرظاہر کہئے تو حسب تصحیحات جمہورائمہ واختیارات خبر دینا انشائے مذہب مذیل بآکد الفاظ اور نظر وثیق لیجئے تو امثال مقام میں بالاجماع بلانزاع،
|
کما حققنا ذٰلك بتوفیق اﷲ تعالٰی فی رسالتنا"عباب الانوار ان لانکاح بمجرد الاقرار"من فتاوٰنا و لنقتصر ھٰھنا علی الاشارۃ الٰی بعض عبارات الافتاء تنزلًا الی الطریقۃ الاولٰی۔ |
جیسا کہ ہم نے اس کو الله تعالٰی کی توفیق سے اپنے رسالہ"عباب الانوار ان لانکاح بمجرد الاقرار"میں محقق کیا ہے اور یہاں ہم صرف فتوٰی کی بعض عبارات کی طرف اشارہ کرینگے،پہلے طریقہ پر۔(ت) |
جواہر الاخلاطی میں ہے:
|
اقرا بالنکاح بین یدی الشھود لاینعقد ھو المختار وقیل ینعقد والاول ھو الصحیح وعلیہ الفتوی [1]۔ |
مرد وعورت نے گواہوں کی موجودگی میں اقرار کیا تو اس سے مختار قول کے مطابق نکاح منعقد نہ ہوگا،اور بعض نے کہا کہ ہوجائے گا۔لیکن پہلا قول صحیح اور اسی پرفتوٰی ہے۔ (ت) |
اصلاح وایضاح میں ہے:
|
النکاح اثبات وھذا اظھار والاظھار |
اقرار اظہار کا نام ہے جبکہ نکاح اثبات کا نام ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع