30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پہلے نقل کردیا ہے۔ت) والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ١١: ٢٣ ربیع الآخر ١٣١١ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ رضا مند زید کوتھی اور جابر نے جبر کیا بلارضا مندی ہندہ اور بغیر رضامندی ولیوں کے عمرو سے فرضی مہر مقرر کرکے ایجاب وقبول کرایا اور وقت ایجاب کے مسماۃ آہ وزاری اور فریاد واویلا انکار کرتی تھی،مسماۃ کے اس انکار آہ وزاری شور واویلا کو اذن قراردے کر دولھا سے ایجاب قبول کراکے نکاح مشہور کر کے شیرینی تقسیم کردی،ایسا نکاح نزدیك علمائے حقانی جائز ہے یا ناجائزـ؟ اگر ناجائز ہو یا جائز ہو تو ادلّہ مع آیات اور حدیث کے تحریر فرمائیے،بینوا توجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگر ہندہ نا بالغہ تھی جب تو اس کا انکار اقرار کوئی چیز نہ تھا اس کے ولی سے اجازت لینی تھی اور اگر بالغہ تھی تو اگرچہ اذن لیتے وقت اس کا انکار بلکہ صحیح مذہب پر صرف آواز اور فریاد سے رونا ہی ردِ استیذان کے لیے کافی ہو مگر اس کا حامل اس قدر نکاح کرنے والے کی وکالت صحیح نہ ہوئی،بہرحال یہ نکاح فضولی ہوا کہ درصورت بلوغ ہندہ خود اس کی وجہ اس کے ولی کی اجاز ت پر موقوف رہا،اگر بعد نکاح جب خبر نکاح پہنچے رد کیا جائے گا رد ہوجائے گا ا وراجازت دی جائیگی تو جائز ہوجائے گا۔
|
فی ردالمحتار عن الذخیرۃ بعضھم قالو ان کان مع الصیاح والصوت فھو رد والافھو رضی وھو الاوجہ وعلیہ الفتوی [1]اھ تمامہ فیہ فی الدرالمختار لواستاذ نھا فی معین فردت ثم زوجہا منہ فسکتت صح فی الاصح [2] واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ردالمحتار میں ذخیرہ سے منقول ہے کہ بعض نے کہا ہے کہ اگر لڑکی کا رونا چیخ وپکار کے طور پرہو تو یہ نکاح سے انکار ہوگا ورنہ وہ رضا ہے اور یہی درست ہے اور اسی پر فتوٰی ہے اھ،اور پوری بحث ردالمحتار میں ہے،اور درمختار میں ہے کہ اگر لڑکی سے معین شخص کے ساتھ نکاح کی اجازت طلب کی تو لڑکی نے انکار کردیا۔اس کے بعد پھر اس کا نکاح اسی شخص سے کیاا ورلڑکی خاموش رہی تو نکاح صحیح ہوگا اصح قول میں والله تعالٰی اعلم (ت) |
مسئلہ ١٢: از پیلی بھیت محلہ بشیر خاں متصل مکان مدینہ شاہ مرسلہ نظام الدین ٢٩ رمضان ١٣١١ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نکاح قبولیت سے جائز ہے یا کوئی اور بات ؟ اور قاضی کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع