30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والاقرار [1]۔ |
اور اقراربھی ہے۔(ت) |
مگر پر ظاہر کہ یہ اقرار مصطلح فقہی نہیں،
|
فانہ اخبار من حق کائن علیہ ھذا ھوالتحقیق عندی او ھذا اخبار من وجہ وانشاء منجز من وجہ کما لھج بہ کثیرون۔ |
کیونکہ وہ پہلے سے موجود حق سے خبر دینا ہے،میرے نزدیك یہی تحقیق بات ہے،یامن وجہ خبر اور من وجہ پورا کرنے کا انشاء ہے جیسا کہ بہت سے علماء نے بیان کیا ہے۔ (ت) |
بلکہ وعدہ ہے اور وعدے کی تعلیق بالشرط جائز بلکہ بعض علماء فرماتے ہیں وعدہ تعلیق پاکر واجب ہوجاتا ہے،اشباہ میں ہے:
|
فی القنیۃ وعد ان یاتیہ فلم یاتہ لایاثم ولایلزم الوعد الااذ اکان معلقا کما فی کفالۃ البزازیہ وبیع الوفاء کما ذکرہ الزیلعی [2]۔ |
قنیہ میں ہے ایك شخص نے وعدہ کیا کہ میں آؤں گا،تو وہ نہ آیا،گنہگار نہ ہوگا،اور وعدہ صرف وہی لازم ہوتا ہے جوکسی شرط سے معلق ہو،جیسا کہ بزازیہ کی کفالت کی بحث میں ہے،اور بیع الوفاء بھی وعدہ کی یہی قسم ہے جیسا کہ امام زیلعی نے ذکر فرمایا۔(ت) |
وجیز کردری میں ہے:
|
المواعید باکتساء صورالتعلیق تکون لازمۃ [3]۔ |
جن وعدوں میں تعلیق ذکر کی جائے وہ لازم ہوتے ہیں۔(ت) |
تو ظاہر اطلاق عبارات مذکورہ سے صورت دائرہ میں بھی نورالدین پر جس نے وعدہ معلقہ بتقدیم نکاح کیا تھا اور شرط تقدیم متحقق ہوئی بحال دسترس وجوب وفا مستفاد ہوسکتا ہے مگر بعد احاطہ کلمات ائمہ نظر غائر استظہار کرتی ہے کہ یہ وجوب ہوبھی تو دیانۃ ہے قضاءً وفائے وعدہ پر جبر نہیں۔
|
الا فی الکفالۃ وفی بیع الوفاء علی قول وقدذکرنا الوجہ فیھما فیما علقنا علی ردالمحتار۔ |
صرف کفالت اور بیع الوفاء میں ایك قول کے مطابق وفالازم ہے جس کی وجہ ہم نے ان دونوں مقام پر ردالمحتار کے حاشیہ میں ذکرکردی ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع