30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو نکاح کردوں ورنہ تین برس نہ کروں گا،اس نے کہا پہلے تم نکاح کردو تو برس چھ مہینے کے بعد ہاتھ پہنچنے سے میں مکان خرید دوں گا۔سبحان خاں راضی ہوگیا اور پانچ چھ دن بعد نکاح کرکے دوسرے دن وداع کردی،دو تین مہینے تك زن وشو ہمبستر رہے،اب سبحان خان نے امینہ کو اپنے یہاں روك رکھا اور کہتا ہے نکاح بوجہ شرطِ مکان فاسد ہوا حالانکہ عورت نے وقت توکیل بالنکاح یا اس سے پہلے سوا ایك سو ساٹھ روپے مہر کے کوئی شر ط مکان وغیرہ کی نہ کی،نہ بعد وداع کوئی گفتگو زبان پر لائی اورمکان بھی مجہول ہے کہ پختہ و خام کی کوئی تصریح نہ ہوئی،نورالدین کا اقرار بھی معلق تھا کہ پہلے نکاح کردو تو بعد کو خرید دوں گا،پس یہ نکاح بلاشرط ہوا یا معلق بالشرط الصحیح یا با لشرط الفاسد،اور اقرار مذکور نورالدین معلق بالشرط ہے اور اقرار معلق بالشرط باطل ہے یا نہیں،بہر تقدیر شرعًا ا س نکاح میں کوئی خلل نورالدین سے مکان دلوانا واجب ہے یا نہیں ؟ بینوا بیانا شافیا للمذھب الحنفی من الکتب المعتبرۃ المتداولۃ بین العلماء العظام والفقہاء الکرام تو جروا اجرکم الله تعالٰی اجرا وافیا۔
الجواب:
نکاح مذکور صحیح وبے خلل،اورگمان فساد محض باطل وپرزلل۔
اولًا :تقریر سوال سے واضح کہ مکان دینا کلام سبحان خاں میں شرط تعجیل نکاح تھا بالآخِر وہ بھی نہ رہی نہ شرط فی النکاح۔
ثانیًا: علی التسلیم زوج پر ایجاب مال للزوج مقتضیات عقد نکاح سے ہے نہ اس کے خلاف"ومثلہ لایفسد البیع فکیف بالنکاح"(اس طرح سے بیع فاسد نہیں ہوتی چہ جائیکہ نکاح فاسد کرے۔ت) اگر واقعی مہر وشرط بھی نہ صرف بروجہ وعدہ اس قرارداد کا ذکر خود اصل عقد میں آتا تاہم اصلا خلل نہ لاتا نہ جہالت مکان سے کوئی نقصان آتا،کہ وہ بحالت ایفا بالشرط خود متعین ہو کر مجہول نہ رہتا اور بے ایفا الزام مہر مثل ہوتا۔
|
کماحققہ المولی المحقق الشامی قدس سرہ السامی فی رد المحتار،قال فقد صرح فی النھر بانہ فی المبسوط بعد ان ذکر عبارۃ محمد لوتزوجھا علی الف و کرامتھا اویھدی لھا ھدیۃ فلھا مہر مثلھا لاینقص عن الالف قال ھذہ المسألۃ |
جیسا کہ محقق شامی قدس سرہ السامی نے ردالمحتار میں اس کی تحقیق کرتے ہوئے فرمایا کہ نہر میں تصریح ہے کہ مبسوط میں امام محمد رحمہ الله تعالٰی علیہ کی عبارت نقل کرنے کے بعد فرمایا اگر کسی شخص نے عورت سے ہزار اور اعزاز پر یا ہزار اور ہدیہ دینے کے شرط پر نکاح کیا تو اس کا مہر مثل ہو گا جوہزار سے کم نہ ہو،علامہ شامی نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع