30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو جس کانکاح بے اجازت معتبرہ شرعیہ اس نے پڑھایا اگر وہ خود بالغ یا بالغہ ہے تو خود اس کے ورنہ اس کے ولی مذکور کی اجاز ت پر موقوف رہے گا اگر اس نے جائز رکھا جائز ہوجائے گا۔
|
فان الاجازۃ اللاحقۃ کالوکالۃ السابقۃ وقد کان یصلح لھذہ فکذا لتلک۔ |
بعد کی ازجازت بھی پہلے کی وکالت کی طرح ہے جب وکالت میں یہ صلاحیت ہے توبعد والی اجازت بھی ایسی ہی ہے۔(ت) |
اور رد کردیا تو باطل کما ھو شان عقد الفضولی(جیسا کہ عقد فضولی کا مقام ہے۔ت) اور اگر ان عورات کے افعال حد کفر تك نہیں یا ہیں مگر یہ ان پرر اضی نہیں جب تومسلمان ہے،صُوَرِ مذکورہ میں اس سے نکاح پڑھوا نے میں اصلًا مضائقہ نہیں،ہاں اگر کوئی مرتد یا صبی نابالغ اپنے بیٹے بیٹی،بہن بھائی،خواہ کسی اورنابالغ نابالغہ کا نکاح اگرچہ بزعم ولایت پڑھائے اوران کا مسلمان باپ یا جوان مسلمان بھائی،چچا،خواہ کوئی اور ولی شرعی مرتد عورت یہاں تك کہ وہاں سلطان اسلام یا اس کی طرف سے کوئی حاکم شرع ماذونِ بالا نکاح بھی ہو تو البتہ اس صورت میں یہ نکاح باطل محض ہوگا کہ مرتد یا نابالغ صالح ولایت نہیں تو عقد عقد فضولی ہوا،اور ایسی حالت میں صدورپایا کہ شرعا اس کا کوئی اجازت دینے والا نہیں،
|
وکل عقد صدر من فضولی ولامجیز لہ فھو باطل[1] کما فی الدر وغیرہ وفی الھندیۃ لا ولایۃ لصغیرکذا فی الحاوی ولا للمرتد علی احد لا علی مسلم ولا علی کافر ولا علی مرتد مثلہ کذا فی البدائع [2](ملخصًا) واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
فضولی کا ہر وہ عقد جس کو کوئی جائز کرنے والا نہ ہو تو وہ باطل ہوتا ہے جیسا کہ در وغیرہ میں ہے،اور ہندیہ میں ہے کہ نابالغ کو ولایت حاصل نہیں جیساکہ حاوی میں ہے ا ورنہ مرتد کو مسلم وکافر پر اور نہ ہی اس کو اپنے جیسے مرتد پر ولایت ہے، بدائع میں ایسے ہی ہے(ملخصا) والله سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ١٠: ٢٢ رجب ١٣٠٩ ھ از کٹھور ضلع سورت مرسلہ مولوی محمد عبدالحق صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیا ن شر ع متین زادھم الله تعالٰی شرفا وتعظیما لدیہ،اس مسئلہ میں کہ سبحان خان نے اپنی دختر عاقلہ بالغہ مسماۃ امینہ بی بی کا خطبہ یعنی منگنی نورالدین عاقل بالغ سے بے کسی شرط واقرار کے کردی،جب نکاح کے چند روز رہے نورالدین سے کہا کہ مخطوبہ کے نام ایك مکان خرید دو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع