30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اشار الی ان المقدم من کلام العاقدین ایجاب سواء کان المتقدم کلام الزوج اوکلام الزوجۃ والمتاخر قبول، ح عن المنح فلایتصور تقدیم القبول [1]الخ فالامر بالقبول یتضمن الایجاب علی جھۃ الاقتضاء کقولہ اعتق عبدك عنی بالف یتضمن البیع کذلك وکما ان العبد لوتزوج بلااذن مولاہ فقول المولی لہ طلقھا رجعیۃ اجازۃ للنکاح الموقوف [2]،کما فی الدرالمختار لان الطلاق الرجعی لایکون الابعد النکاح الصحیح فکان الامر بہ اجازۃ اقتضاء [3] کما فی ردالمحتار ھذا ما ظھر لی وھو ظاھر جلی وان ابیت فالقول بالایجاب مرجح مصحح بقول الفتح ھو احسن کما علمت۔
|
لفظ یہاں پر ایجاب کا جواب ہوتا ہے، ردالمحتار میں یہ اشارہ دیا کہ عاقدین میں سے پہلے کا کلام ایجاب اور دوسرے کا قبول کہلائے گا، خواہ مرد کا پہلا کلام ہو یاعورت کا۔ اب منح کے قو ل کہ"قبول پہلے متصور نہیں ہوسکتا الخ تواس پر قبول کرنے کی درخواست اقتضاءً ایجاب پر مشتمل ہے جیسا کہ کوئی کہے کہ تو میری طرف سے ایك ہزار کے بدلے میں اپنا غلام آزاد کردے، تو یہ قول ضمنا بیع پر مشتمل ہے (یعنی مجھے فروخت اور پھر آزاد کر) اور جیسا کہ کوئی غلام اپنے مالك کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس پر مالك اس کو کہے"تو رجعی طلاق دے"تو مالك کایہ کہنا موقوف نکاح کو جائز قرار دینا ہے جیساکہ درمختارمیں ہے، کیونکہ رجعی طلاق نکاح کے بعد ہی ہوسکتی ہے لہذا رجعی طلاق کا حکم، نکاح کی اجازت متصور ہوگا، جیسا کہ ردالمحتار میں ہے، یہ مجھے بالکل واضح معلوم ہوا ہے، اور اگر یہ قول قابل قبول نہ بھی ہو تو ایجاب والے قول کے بارے میں فتح کایہ کہنا کہ"یہ احسن ہے"اس کے لیے ترجیح اور تصحیح قرار پائے گا جیسا کہ آپ جان چکے ہیں۔ (ت) |
بہر کیف یہاں آکر اس نکاح کے منعقد ہوجانے میں شبہ نہیں مگر از آنجا شخص مذکور فضولی تھا اجازت مخطوبہ پر موقوف رہا، اب اگر بعد وقوع نکاح اس کی خبر پاکر قبل اس کے کہ مخطوبہ سے کوئی قول یا فعل دلیل رد وابطال صادر ہو قولًا یا فعلًا یا سکوتًا اجازت پائی گئی تونکاح صحیح وتام ونافذ ہوگیا۔ اجازت قولی یہ کہ مثلًا مخطوبہ کہے میں راضی ہوئی مجھے منظور ہے یا اچھا کیا الحمد للہ،اورفعلی یہ کہ مثلًا بے جبر واکراہ شوہرکو خلوت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع