30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تنویر الابصار میں ہے:
|
ھوا قامۃ الغیر مقام نفسہ فی تصرف جائز معلوم [1]۔ |
وہ یہ کہ غیر کو کسی تصرف جائز معلوم میں اپنے قائم مقام بنانا۔ (ت) |
علماء فرماتے ہیں زید و عمرو سے کہا کاش! تو میرا نکاح فلاں عورت سے کردیتا، اس نے کردیا، یہ نکاح، نکاحِ فضولی ہوا، حالانکہ یہاں صراحۃً عمرو سے استعانت تھی تو مجرد اس قدر کہ اس نے کہا تو فلاں سے نکاح پر راضی ہے؟ اس نے کہاں"ہوں"کیونکر توکیل ہوسکتی ہے۔ فتاوٰی خیریہ میں ہے:
|
سئل فی رجل قال کل امرأۃ اتزوجھا فھی طالق ثم قال بمجلس لرجل لیتك تزوجنی فلانۃ ھل اذازوجہ یحنث ام لااجاب لایحنث لانہ لم یتزوج بل زوج والمزوج فضولی بلاشك والحال ھذہ [2] الخ۔ |
ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے کہا ہو کہ جس عورت سے بھی نکاح کروں اس کوطلاق ہے، پھر اس شخص نے کسی مجلس میں ایك آدمی کو کہا کاش تو فلاں عورت سے میرا نکاح کردے، تو اس آدمی نے اس کا نکاح اس عورت سے کردیا، تو کیا حانث ہو گا یعنی اس عورت کو طلاق ہوجائیگی یا نہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس نے خود نکاح نہیں کیا بلکہ اس کا نکاح ایك غیر شخص (فضولی) نے کیا ہے اور بلاشك معاملہ یہی ہے الخ (ت) |
بالجملہ اس وقت تك کی جو کارروائی تھی لغو وفضول گئی، اب رہا وہاں سے واپسی کے بعد شخص مذکور کا خاطب سے خطاب، یہاں ضرور تحقیق عقد ہی مقصود ہے کہ ان کے زعم میں مجلس مخطوبہ مجلس توکیل تھی اب کہ یہ اپنےنزدیك وکیل بن کر آیا اس مجلس عقد میں عقد کرتا ہے تو یہ استفہام حقیقۃً ایجاب ہوا اور زوج کا کہنا قبول کیا قبول۔
۳۱اقول: وبالله التوفیق، تحقیق مقام یہ ہے کہ استفہام ہنگام ارادہ تحقیق مفید معنی امر ہوتا ہے
|
قال اﷲ تعالٰی ۚ فَہَلْ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَای انتھوا [3] |
الله تعالٰی نے فرمایا: کیا تم باز آؤگے؟ اس سے مراد یہ ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع