دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 11 | فتاوی رضویہ جلد ۱۱

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۱

غیرھا للمتکلم بخلاف لساننا فانما ھی صیغۃ واحدۃ للغائب والحاضر والمتکلم جمیعا وانما یفرق بالضمائر اوذکر الظاھر الاتری ان الفرس تقول اوکرد و توکردی ومن کردم ونحن نقول فی الکل اس نے کیا، تونے کیا، میں نے کیا ومن کذٰلك فی الفعل اللازم وہ آیا تو آیا میں آیا وانما یفرق فیہ بین الواحد والجمع والمذکر والمؤ نث فصیغہ فی اللازم اربع آیا آئی للواحد المذکر والمؤنث وآئے آئیں للجمعین کذلك وفی المتعدی صیغۃ واحدۃ للکل وھوکیا مثلًا سواء اسندتہ الی اس او انھوں او تو او ہم للذکر اوالذکور او الاثنی اوالاناث اولہم ذکرانا اواناثا ولافرق بین الغائب والحاضر والمتکلم فی شیئ منھما اصلا بہ تبین بطلان زعم من یزعم ان قول الخاطب قبول کی بدون میں نے لاینعقد بہ النکاح لعدم تعین القابل۔

علیحدہ ہے جبکہ ہماری زبان میں ماضی غائب، حاضر اور متکلم کا ایك ہی صیغہ ہے جو صرف ضمیر یا اسم ظاہر کی تبدیلی میں فرق پیدا کرتا ہے، آپ دیکھیں کہ فارسی والے اوکرد، تو کردی اور من کردم، ہر ایك کے لیے علیحدہ صیغہ استعمال کرتے ہیں، جبکہ ہم سب کے لیے صرف"کیا"کہتے ہیں، اس نے قبول کیا، تو نے کیا، میں نے کیا، اور یوں ہی ہماری زبان میں فعل کابھی ایك ہی صیغہ ہے جو ضمیر لگانے سے غائب، حاضر اور متکلم کا فرق ظاہر کرتا ہے مثلًا وہ آیا، توآیا، میں آیا، البتہ واحدو جمع اور مذکر ومونث کے لحاظ سے لازم کے چار صیغے ہیں، آیا، آئی واحد مؤنث ومذکر کے لیے آئے اور آئیں جمع مذکر ومونث کے لیے ہیں، اور فعل متعدی کا صرف ایك صیغہ ہے، اوریہ ،کیا، ہے اس کوبھی ضمیر لگا کر واحد مذکر ومونث، جمع مذکر ومونث کے ساتھ غائب، حاضر متکلم کا فرق کیا جاتا ہے مثلًا اس نے کیا، تونے کیا، میں نے کیا، غرضیکہ اردو میں فعل لازم اور متعدی کے لیے غائب، حاضر اور متکلم کا ضمیر وں کے بغیر کوئی فرق نہیں ہے، اس بحث سے واضح ہوگیا کہ بعض کا خیال غلط ہے کہ شادی کا پیغام دینے والے پہلے شخص کا دوسرے کے"میں نے دی"کے جواب میں صرف"قبول کی"کہنا کافی نہیں جب تك اس کے ساتھ"میں نے"ذکر نہ کرے کیونکہ اس سے قبول کرنے والے کا تعین نہیں ہوتا لہذا"میں نے قبول کی"کہنا ضروری ہے (اس خیال کے غلط ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اردو میں غائب، حاضر متکلم کے لیے صیغہ کا فرق نہیں ہے)۔ (ت)

مگر تقدیر مذکور سوال سے ظاہر یہ ہے کہ فضولی کا مخطوبہ سے وہ کلام بقصد انشائے عقد نہیں ہوتا، نہ وہ مجلس مجلس عقد سمجھی جاتی ہے بلکہ اسے اپنے زعم میں ہندہ سے طلب اذن کی مجلس سمجھتے اور اس گفتگو کو استیذان جانتے اور مجلس عقد مجلس کو قرار دیتے ہیں جب یہ وہاں سے واپس آکر خاطب سے خطاب کرتا ہے


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن