30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
غیرھا للمتکلم بخلاف لساننا فانما ھی صیغۃ واحدۃ للغائب والحاضر والمتکلم جمیعا وانما یفرق بالضمائر اوذکر الظاھر الاتری ان الفرس تقول اوکرد و توکردی ومن کردم ونحن نقول فی الکل اس نے کیا، تونے کیا، میں نے کیا ومن کذٰلك فی الفعل اللازم وہ آیا تو آیا میں آیا وانما یفرق فیہ بین الواحد والجمع والمذکر والمؤ نث فصیغہ فی اللازم اربع آیا آئی للواحد المذکر والمؤنث وآئے آئیں للجمعین کذلك وفی المتعدی صیغۃ واحدۃ للکل وھوکیا مثلًا سواء اسندتہ الی اس او انھوں او تو او ہم للذکر اوالذکور او الاثنی اوالاناث اولہم ذکرانا اواناثا ولافرق بین الغائب والحاضر والمتکلم فی شیئ منھما اصلا بہ تبین بطلان زعم من یزعم ان قول الخاطب قبول کی بدون میں نے لاینعقد بہ النکاح لعدم تعین القابل۔ |
علیحدہ ہے جبکہ ہماری زبان میں ماضی غائب، حاضر اور متکلم کا ایك ہی صیغہ ہے جو صرف ضمیر یا اسم ظاہر کی تبدیلی میں فرق پیدا کرتا ہے، آپ دیکھیں کہ فارسی والے اوکرد، تو کردی اور من کردم، ہر ایك کے لیے علیحدہ صیغہ استعمال کرتے ہیں، جبکہ ہم سب کے لیے صرف"کیا"کہتے ہیں، اس نے قبول کیا، تو نے کیا، میں نے کیا، اور یوں ہی ہماری زبان میں فعل کابھی ایك ہی صیغہ ہے جو ضمیر لگانے سے غائب، حاضر اور متکلم کا فرق ظاہر کرتا ہے مثلًا وہ آیا، توآیا، میں آیا، البتہ واحدو جمع اور مذکر ومونث کے لحاظ سے لازم کے چار صیغے ہیں، آیا، آئی واحد مؤنث ومذکر کے لیے آئے اور آئیں جمع مذکر ومونث کے لیے ہیں، اور فعل متعدی کا صرف ایك صیغہ ہے، اوریہ ،کیا، ہے اس کوبھی ضمیر لگا کر واحد مذکر ومونث، جمع مذکر ومونث کے ساتھ غائب، حاضر متکلم کا فرق کیا جاتا ہے مثلًا اس نے کیا، تونے کیا، میں نے کیا، غرضیکہ اردو میں فعل لازم اور متعدی کے لیے غائب، حاضر اور متکلم کا ضمیر وں کے بغیر کوئی فرق نہیں ہے، اس بحث سے واضح ہوگیا کہ بعض کا خیال غلط ہے کہ شادی کا پیغام دینے والے پہلے شخص کا دوسرے کے"میں نے دی"کے جواب میں صرف"قبول کی"کہنا کافی نہیں جب تك اس کے ساتھ"میں نے"ذکر نہ کرے کیونکہ اس سے قبول کرنے والے کا تعین نہیں ہوتا لہذا"میں نے قبول کی"کہنا ضروری ہے (اس خیال کے غلط ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اردو میں غائب، حاضر متکلم کے لیے صیغہ کا فرق نہیں ہے)۔ (ت) |
مگر تقدیر مذکور سوال سے ظاہر یہ ہے کہ فضولی کا مخطوبہ سے وہ کلام بقصد انشائے عقد نہیں ہوتا، نہ وہ مجلس مجلس عقد سمجھی جاتی ہے بلکہ اسے اپنے زعم میں ہندہ سے طلب اذن کی مجلس سمجھتے اور اس گفتگو کو استیذان جانتے اور مجلس عقد مجلس کو قرار دیتے ہیں جب یہ وہاں سے واپس آکر خاطب سے خطاب کرتا ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع