30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی المبدوء بالتاء تزوجنی بنتك فقال فعلت عند عدم قصد الاستیعاد لانہ یتحقق فیہ ھذا الاحتمال بخلاف الاول لانہ لایستخبر نفسہ عن الوعد واذاکان کذالك والنکاح مما لایجری فیہ المساومۃ کان للتحقیق فی الحال فانعقد بہ لاباعتبار وضعہ للانشاء بل باعتبار استعمالہ فی غرض تحقیقہ واستفادۃ الرضی منہ حتی قلنا لوصرح بالاستفہام اعتبر فھم الحال، قال فی شرح الطحاوی لوقال ھل اعطیتنیھا فقال اعطیت ان کان المجلس للوعد فوعد وان کان للعقد فنکاح [1]اھ۔
|
"تواپنی بیٹی مجھ سے نکاح کردے گا"توجواب میں دوسرے نے کہا"میں نے کردیا"جب اس سے وعدہ کا ارادہ نہ ہو تویہ الفاظ بھی چونکہ رضامندی کا احتمال رکھتے ہیں اس لیے نکاح ہوجائے گا، ا سکے بخلاف پہلی صورت میں وعدہ کا احتمال نہیں کیونکہ خود متکلم مضارع کے صیغہ سے اپنی ذات کے بارے میں وعدہ کی خبر نہیں دیتا، جب یہ معاملہ ہے تواس صورت میں فی الحال نکاح کوقائم کرنا مقصود ہے تواسی وقت نکاح ہوجائے گا، کیونکہ نکاح میں مذکورہ الفاظ سے بھاؤتومراد نہیں ہوسکتا، توایسے الفاظ سے نکاح کا انعقاد اس لیے نہیں کہ یہ الفاظ نکاح کے لیے وضع ہیں بلکہ اس لیے کہ ان الفاظ کا استعمال مقصد کوحاصل کرنے کی غرض سے کیا گیا اور ان سے رضامندی کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ حتی کہ ہم یہ کہیں گے اگر کسی نے ان الفاظ سے صراحۃً استفہام مراد لیا توپھر حال کا اعتبار کیا جائے گا، طحاوی کی شرح میں فرمایا کہ اگر کسی نے دوسرے کوکہا:"کیا تونے اپنی بیٹی مجھے دی ہے"تودوسرے نے جواب میں کہا کہ"میں نے دی ہے"تواس صورت میں اگر مجلس منگنی ہوتویہ منگنی ہوگی اور یہ مجلس نکاح ہوتونکاح ہوگاا ھ (ت) |
اس تحقیق انیق سے عبارات ملتئم ہوگئیں اور حکم منتظم وتمام الکلام علی مسألۃ الاستفہام فیما علقنا ہ علی رد المحتار(اور مسئلہ استفہام پر مکمل کلام ردالمحتار پر ہمارے حاشیہ میں ہے۔ ت) جب یہ اصل متضح ہولی اب صورت مستفسرہ کی طرف چلئے، شخص مذکور کہ مجلس خاطب سے اٹھ کر مخطوبہ کے پاس جاتا ہے جبکہ اس سے پہلے نہ خاطب سے اذن لیا نہ مخطوبہ سے، اور وہ دونوں بالغ ہیں کہ ان کے معاملہ میں غیر کا اذن کوئی چیز نہیں تواسے وکالت سے کیا علاقہ، یقینا فضولی محض ہوتا ہے مگر ہمارے ائمہ کرام رضی الله تعالٰی عنہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع