30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
محیط و ہندیہ میں ہے:
|
لاینعقد النکاح مالم یقل الخاطب پذیر فتم الااذا اراد بقول دادی التحقیق دون السوم ١[1] الخ۔ |
منگنی پوچھنے والا جب تك لڑکی کے باپ کے جواب کے بعد"میں نے قبول کی"نہ کہے گا نکاح نہ ہوگا، مگر یہ کہ اس کے اس کہنے"مجھے تونے اپنی لڑکی دی"سے مراد منگنی نہ ہو بلکہ تحقیق مراد ہے الخ (ت) |
ذخیرۃ العقبی میں ہے:
|
قولہ دادی استخبار فلایثبت التوکیل بہ نعم اذا ارید بقولہ دادی التحقیق دون السوم ینعقد النکاح وان لم یقل الخا طب پذیر فتم الخ [2]۔ |
ایك کاکہنا"تونے دی"یہ طلب خبر ہے اس سے توکیل ثابت نہ ہوگی، ہاں اگر"تونے دی"سے مراد منگنی کی بجائے تحقیق ہوتو نکاح ہوجائے گا اگرچہ بعد میں یہ کہنے والا"میں نے قبول کی"نہ کہے الخ (ت) |
یہی محل ہے اس فرع ذخیرہ و ہندیہ کا:
|
قیل لامرأۃ خویش رازن من کردی فقالت کردم ینعقد النکاح وکذا لو قال خویش رازن من گردانیدی فقالت گردانیدم ٣[3]۔ |
اگر کسی عورت کو یہ کہا گیا تونے اپنے کو میری بیوی کردیا تو عورت نے کہا"میں نے کردیا"تو نکاح منعقد ہوجائے گا، اور یونہی اگر کسی نے عورت کو کہا تونے اپنے کو میری بیوی بنادیا، تو عورت نے کہا"میں نے بنا دیا"نکاح ہوجائے گا (ت) |
اور اس فرع محیط وہندیہ کا:
|
سئل نجم الدین عمن قال لامرأۃ خویشتن را بہزاردرم بمن بزنی دادی فقالت بالسمع والطاعۃ قال ینعقد النکاح ولو قالت سپاس دارم لاینعقد لان الاول |
نجم الدین سے سوال کیا گیا کہ جس نے کسی عورت کو کہا کہ تونے اپنے کو ہزار مہرکے بدلے میری بیوی کردیا تو عورت نے جواب میں کہا"سنا اور اطاعت کی"تو انھوں نے فرمایا:نکاح منعقد ہوگیا، اور اگر عورت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع