30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وقوع نکاح سے خبر دینا انشاء عقد سے بالکل مبائن وغیر مؤثر ہے۔ |
١٨٢ |
فاسق بددیانت قابل اعتماد جب وہ خود حرام وحلال کی پروا نہیں کرتا تو اوروں کےلئے احتیاط کی کیا اُمید۔ |
١٨٨ |
|
نکاح اثبات اور اقرار اظہار ہے۔ |
١٨٢ |
نکاح باعلان ہونا اور ایجاب وقبول سے پہلے خطبہ اور مسجد میں نکاح ہونا اور جمعہ کے دن ہونا اور نکاح خواں عالم باعمل ہونا مستحب ہے۔ |
١٨٨ |
|
اظہار اقرار کے مغائر ہے۔ |
١٨٢ |
اس زمانہ جہل وفساد میں اگر اہلِ علم حاضر جلسہ نہ ہوں تو نکاح میں سخت خلل واقع ہونے کا اندیشہ ہے۔ |
١٨٩ |
|
نکاح وتزویج یہ دو لفظ عقد نکاح میں صریح ہیں اور عطاوہبہ وصدقہ وغیرہ کنایہ۔ |
١٨٣ |
نکاح خواں کلماتِ ایجاب دُولھا کے کان میں کہے کہ کوئی نہ سُنے تو نکاح نہ ہوگا۔ |
١٩٠ |
|
ان الفاظ سے بھی نکاح ہوجاتا ہے جبکہ گواہ نکاح ہونا سمجھیں اور قرینہ سے یہ معلوم ہو کہ ان سے نکاح مراد ہے۔ |
١٨٣ |
نکاح دو آزاد و مکلف مردوں یا ایك آزاد و مکلف مرد اور دو آزادمکلف عورتوں کا بطور گواہ موجود ہونا شرط ہے جو ایجاب وقبول کو بیك وقت سُنیں۔ |
١٩٠ |
|
باپ سے کہا تو نے اپنی لڑکی مجھے دی اس نے کہا دی، اگر یہ منگنی کےلئے گفتگو ہو تو منگنی ہوئی اورنکاح کےلئے تونکاح۔ |
١٨٣ |
جاہل کی نکاح خوانی قطعًا خلافِ اولٰی ہے۔ |
١٩٠ |
|
نکاح عقد ہے اور منگنی وعدہ ہے۔ |
١٨٤ |
جاہل کی امامت خلافِ اولٰی ہے۔ |
١٩٠ |
|
عقد ووعد میں تباین ہے۔ |
١٨٤ |
جاہل کی مضاربت خلافِ اولٰی ہے۔ |
١٩٠ |
|
منگنی کو نکاح ٹھہرانا بداہۃً باطل اور اجماعًا غلط ہے۔ |
١٨٤ |
بعد نکاح اگر شہود انکار کرجائیں تو نکاح دوبارہ کرنا لازم ہوگا یانہیں۔ |
١٩٠ |
|
ھل اعطیتنیھا مجلس عقد میں مفید عقد اور جلسہ وعد میں طلب وعد ہے۔ |
١٨٧ |
شہود ابتدائے نکاح میں شرط ہیں یعنی بے ان کے منعقد نہ ہوگا، بقاء میں شرط نہیں یعنی شاہدوں کا بقاءِ نکاح کےلئے باقی رہنا ضروری نہیں۔ |
١٩١ |
|
الفاظ محتملہ میں مدار قرینہ پر ہے۔ |
١٨٧ |
اس شرط پر نکاح کا حکم کہ ایك ماہ بعد طلاق دے دوں گا۔ |
١٩٢ |
|
نکاح خواں اور شہود کابینا ہونا ضروری نہیں۔ |
١٨٨ |
ایك برس یا ایك ماہ یا سو١٠٠برس تك کےلئے نکاح کیا تو نکاح نہ ہوگا، یہ متعہ کی صورت ہے۔ |
١٩٢ |
|
عقد کرنے والا دیندار متقی مسائلِ نکاح سے واقف ہونا چاہئے۔ |
١٨٨ |
نکاح متعہ ومؤقت اگرچہ مدت مجہولہ یا طویلہ ہو باطل ہے۔ |
١٩٢ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع