30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
و الوکیل بقبض الدین اذا وکل من فی عیالہ والاعند تقدیر الثمن من المؤکل للوکیل فیجوز التوکیل بلااجازۃ لحصول المقصود اھ ففی مسئلتنا ھذہ تظھر ھذہ العلۃ و ھی کالمسئلۃ الاخیرۃ بجامع التعیین فی کل فتکون مستثناۃ فتعین الجواب الثانی فی الشرح فتأمل ١[1] اھ مافی ط۔ |
فرمایا کہ وکیل بغیر اجازت دوسرا وکیل نہیں بنا سکتا مگر جب کسی وکیل نے زکوٰۃ دینے کے لیے کسی کو اور قرض وصول کرنے میں وکیل نے اپنے عیال کو اور وکیل کے لیے موکل کی طرف سے ثمن طے کردینے کے بعد کسی دوسرے کو وکیل بنایا تو بلااجازت یہ وکالت جائز ہوگی کیونکہ اس سے مقصد پورا ہوجا تا ہے اھ تو ہمارے اس مسئلہ میں بھی یہی علت ظاہر ہوئی اور یہ آخری مسئلہ کی طرح ہے کہ ان میں جامع علت مقصد کی تعیین ہے اس لیے یہ مستثنٰی قرار پائے گا۔اور شارح کا جواب ثانی متعین ہوجائے گا،غور کر۔طحطاوی کابیان ختم ہوا۔(ت) |
اور اگر بحالت استیذان غیر اقرب سکوت ہوا تو روایت امام کرخی رحمہ الله تعالٰی موجود کہ مطلقا سکوت کافی ہے۔
|
فی ردالمحتار تحت قولہ استأذنہا غیر الاقرب فلاعبرۃ لسکوتھا الخ وعن الکرخی یکفی سکوتھا فتح اھ ٢[2]۔ |
ردالمحتار میں"لڑکی سے اجازت حاصل کرے کوئی غیر اقرب شخص،توا س صورت میں لڑکی کے سکوت کا اعتبار نہیں الخ"کے تحت فرمایا،امام کرخی سے ایك روایت میں ہے کہ اس کا سکوت رضا مندی کے لیے کافی ہے فتح اھ (ت) |
مقاصد شرع سے ماہر خوب جانتاہے کہ شریعت مطہرہ رفق وتیسیر فرماتی ہے نہ معاذالله تضییق وتشدید،ولہٰذا جہاں ایسی دقتیں واقع ہوئیں علمائے کرام انھیں روایات کی طرف جھکے ہیں جن کی بناء پر مسلمان تنگی سے بچیں۔ردالمحتار کی کتاب الحدود میں ہے:
|
ھو خلاف الواقع حرج عظیم لانہ یلزم منہ تاثیم الامۃ [3]۔ |
یہ لوگوں میں مروج کے خلاف ہے اور بہت بڑا حرج ہے کیونکہ اس سے پوری امت کو گنہگار ٹھہرانا لازم آتا ہے۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع