30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اذن توکیل نہ ہو۔
|
اما روایۃ عصام فقد سمعت،واما الامام فقیہ النفس فقال فی وکالۃ الخانیۃ الوکیل بالتزویج لیس لہ ان یؤکل غیرہ فان فعل فزوج الثانی بحضرۃ الاول جاز [1] اھ واما القنیۃ،ففی الدرلوا ستأذنھا فسکتت فوکل من یزو جھا ممن سماہ جازان عرفت الزوج والمھر کما فی القنیہ،واستشکلہ فی البحر بانہ لیس للوکیل ان یوکل بلااذن فمقتضاہ عدم الجواز او انھا مستثناہ [2] اھ قال ط قولہ فمقتضاہ عدم الجواز قد یقال ان الوکیل فی النکاح وان تعدد سفیر ومعبر الحقوق ترجع الی الموکل فاذا لاضیر فی تعددہ لاسیما والزوج والمھر معلومان ویؤید ذٰلك ماذکرہ المص والشارح فی الوکالۃ حیث قالا الوکیل لایوکل الاباذن اٰمرہ الااذا وکلہ فی دفع زکاۃ فوکل اٰخر |
لیکن عصام کی روایت توآپ نے سن لی مگر امام فقیہ النفس(قاضی خاں)توانھوں نے خانیہ کے باب وکالت میں فرما یا کہ نکاح کے وکیل نے اگر کسی کو وکیل بنایا تو یہ اس کو جائز نہیں،اور بنالیا تو دوسرے نے اگر پہلے کی موجودگی میں نکاح کیا توجائز ہوگا اھ مگر قنیہ،تو د ر میں ہے کہ اگر وکیل نے لڑکی سے اذن لینا چاہا تو لڑکی خاموش رہی اور وکیل نے دوسرے شخص کو نامزد کیا تاکہ وہ اس لڑکی کا نکاح کرے تو لڑکی کو اگر زوج کا نام اور مہر معلوم ہوجائے تو اس دوسرے وکیل کا کیا ہوا نکاح جائز ہوگا۔جیسا کہ قنیہ میں ہے اس پر بحر میں اشکال کیاکہ وکیل از خود دوسرا وکیل نہیں بنا سکتا،لہٰذ اس بنا پر دوسرے کا نکاح صحیح نہیں ہونا چاہئے،یا یہ صورت مستثنٰی قرار دی جا ئے اھ،اس پر طحطاوی نے فرمایا کہ اس کا قول،عدم جواز چاہئے،اس پر یوں کہا جا سکتا ہے کہ نکاح کا وکیل صرف سفیر اور معبر ہوتا ہے،وہ اگر متعدد بھی ہوں تو حقوق صرف مؤکل کی طرف راجح ہوتے ہیں،تو یہ زیادہ بھی ہوں تو کوئی مضر نہیں خصوصًا جبکہ لڑکی کو خاوند اور مہر کا علم ہوجائے،اس کی تائید مصنف اور شارح کے اس بیان سے ہوتی ہے جو انھوں نے وکالت کی بحث میں ذکر کیا ہے جہاں پر انھوں نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع