30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اجازت یا عمومی اختیار کے بغیر نہیں بنا سکتا ہے۔ت)
اس تقدیر پر یہ نکاح سرے سے نافذ ولازم واقع ہوا جس کی تنقیذ میں ان تدقیقات کی اصلًا حاجت نہ رہی مگریہ جب ہی کہہ سکیں گے کہ اس طریقہ نکاح کی شہرت ایسی عام ہو کہ کنواری لڑکیاں بھی اس سے واقف ہوں اورجانتی ہوں کہ وکیل خو د نہ پڑھائے گا دوسرے سے پڑھوائے گا۔
|
والالم یکن معروفا عند ھن فلایجعل کالمشروط فی حقہن تأمل وراجع مسئلۃ سعرالخبز وغیرہ فی البلد۔ |
ورنہ یہ لڑکیوں کے ہاں معروف نہیں ہوگا اس لیے ان کے حق میں مشروط کی طرح نہ ہوگا،غور کرو اور شہر میں روٹی کے بھاؤ وغیرہ کے مسئلہ کی طرف رجوع کرو۔(ت) |
یہ سب اس تقدیر پر ہے کہ وکیل اصلی نے بعد نکاح کوئی کلمہ ایسانہ کہا جو اس نکاح کی اجازت ٹھہرے ورنہ خود اسی کے جائز کرنے سے جائز ہوجائے گا اگرچہ اسے اذن توکیل اصلًا نہ ہو۔
|
فی الاشباہ الوکیل اذا وکل بغیر اذن وتعمیم واجاز مافعلہ وکیلہ نفذ الاالطلاق والعتاق ١[1]۔ |
اشباہ میں ہے کہ اگر موکل کی اجازت کے بغیر یا عمومی اختیار حاصل کئے بغیر وکیل نے از خود دوسرا وکیل بنا لیا تو دوسرے وکیل کے لیے عمل کو پہلے وکیل نے جائز قراردیا تویہ عمل نافذ ہوجائے گا ماسوائے طلاق اور عتاق کہ ان میں نافذ نہ ہوگا۔(ت) |
حموی میں ہے:
|
وکذا لو عقد اجنبی فاجاز الاول [2]۔ |
یوں ہی اگر وکیل کے لیے کسی اجنبی نے عمل کیا تو وکیل نے اسے جائز قرار دیا۔(ت) |
غرض ہر طرح پیش از جماع ان نکاحوں کے نافذ اور لازم ہونے میں شبہہ نہیں تو اولاد قطعا اولاد حلال اور ۲۸بالفرض ان باتوں سے قطع نظر کیجئے اور بتقدیر باطل ہی مان لیجئے کہ اصلا ان امور سے کچھ واقع نہیں ہوتا تاہم جب ان بلاد میں عام مسلمین کو اس میں ابتلا ہے تو راہ یہ تھی کہ اس روایت پر عمل کریں جسے امام عصام نے اپنے متن میں اختیار فرمایا اور امام فقیہ النفس قاضی خاں نے اپنے فتاوٰی اور زاہدی نے قنیہ میں ا س پر جزم کیا اور علامہ سیدی احمد طحطاوی نے اس کی تائید کی یعنی وکیل بالنکاح جب دوسرے کو نکاح پڑھانے کی اجازت دے اور وہ اس کے سامنے پڑھادے تو نکاح جائز و نافذ ہوجائے گااگرچہ وکیل کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع