30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگرچہ بظاہر ہزار اظہار تنفر کے ساتھ ہوں کہ یہ کراہتیں جیسی ہوتی ہیں سب کو معلوم ہے حقیقۃً حال یوں منکشف ہو کہ اس مرد کی جگہ کسی اجنبی کو فرض کیجئے جس سے اس کانکاح نہ کیا گیا اس وقت بھی ایسی ہی ظاہر کراہتوں پر قناعت کرکے بالآخر جماع پر قدرت دے دے گی،حاشا وکلاّ،تو صاف ثابت ہوا کہ یہ سب امور حقیقۃً قبول نکاح سے ناشی ہوتے ۲۴بلکہ اس سے پہلے رخصت ہوکر جانا بھی اگرچہ بوجہ مفارقت اعزہ وخانہ مالوفہ نہایت گریہ وبکا کے ساتھ ہو انصافًا دلیل رضا ہے کہ اگر اسے اپنا شوہر ہونا پسند نہ کرتی اجنبی جانتی ہر گز زفاف کے لیے رخصت ہو کر اس کے یہاں نہ جاتی ۲۵بلکہ اس سے بھی پہلے آرسی مصحف یعنی جلوہ کی رسم جہاں ہے بشرطیکہ عورت پہلے سے اس کے سامنے نہ آتی ہو وہ بھی دلیل قبول ہے کہ اگر غیر مرد سمجھتی زنہار منہ دکھانے پر راضی نہ ہوتی ۲۶اسی طرح مٹھی کھلوانے وغیرہ کی رسمیں بھی کہ جلوہ سے بھی پیشتر ہوتی ہیں دلالت وعلامت قرار پاسکتی ہیں اور ان تمام باتوں میں بکروثیب یکساں ہیں کہ ان میں صرف مسئلہ سکوت میں فرق ہے باقی دلالتیں دونوں برابر ہیں تبیین الحقائق میں ہے:
|
لافرق بینھما فی اشتراط الاستئذان والرضا وان رضا ھما قد یکون صریحا وقد یکون دلالۃ غیران سکوت البکر رضا دلالۃ لحیائھا دون الثیب [1]۔ |
باکرہ اور ثیبہ دونوں کا معاملہ اجازت طلب کرنے اور رضا حاصل کرنے میں مساوی ہے ہاں صرف اجازت کے موقعہ پر سکوت کے بارے میں فرق ہے کہ باکرہ کا سکوت اس کے حیاء کی وجہ سے رضا کی دلیل ہے مگر ثیبہ کے لیے نہیں۔ (ت) |
غرض جب شرع سے قاعدہ کلیہ معلوم ہو لیا کہ جس فعل سے اس نکاح پر عورت کی رضا ثابت ہو اذن و اجازت ہے اور بنظر تحقیق وانصاف جب اس شخص اور مرد اجنبی کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں تو یہ امور دلیل رضا وقبول نکلتے ہیں تو نفاذ نکاح کاا نکار نہ کرے گا مگر جاہل بلکہ جب یہ طریقہ نکاح ہمارے بلاد میں عام طورپر رائج اور معلوم ہے کہ وکیل خود نہ پڑھا ئے گا ۲۷بلکہ دوسرے سے پڑھوائے گا تو کہہ سکتے ہیں کہ ضمن اذن میں دوسرے کو اذن دینے کا بھی عرفًا اذن مل گیا فان المعروف کا لمشروط کما ھو من القواعد المقررۃ والفقھیۃ(جیساکہ فقہی قواعد میں ہے کہ معروف مشروط کی طرح ہے(یعنی عرف میں مقررہ امور بغیر ذکر بھی معتبر ہوں گے۔ت)اور وکیل کو جب اذن تو کیل ہوتو بیشك اسے اختیار ہے کہ خود پڑھائے یا دوسرے کو اجازت دے فی الاشباہ لایوکل الوکیل الاباذن اوتعمیم [2]الخ(اشباہ میں ہے کہ کوئی وکیل اپنا نائب وکیل مؤکل کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع