30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو خاوند کے ہاں منتقل کرنے کا کہنا۔ت)ردالمحتارمیں ہے:
|
فی البحر عن الظھیریۃ لوخلاھا برضا ھا ھل یکون اجازۃ لاروایۃ لھذہ المسئلۃ وعندی ان ھذا اجازۃ اھ فی البزازیۃ الظاھر انہ اجازۃ [1] اھ مافی الشامیۃ ۲۲اقول: ومن ھٰھنا زدت المس والتعانق والتقبیل لان الخلوۃ برضاھا لما کانت امارۃ الرضا فھذہ الافعال اجد ر واحری کمالایخفی۔ |
بحرمیں ظہیریہ سے منقول ہے کہ لڑکی کی رضامندی سے وہ شخص خلوت کرلے تو کیا یہ لڑکی کی طرف سے نکاح کو جائز قرار دینا ہے یا نہیں تو اس مسئلہ کی روایت نہیں ہے اور میرے نزدیك یہ اجازت ہے اھ،بزازیہ میں ہے کہ ظاہر یہی ہے کہ یہ اجازت ہوگی اھ شامی کی عبارت ختم ہوئی۔ اقول: یہاں پر میں نے چھونا،معانقہ،بوسہ کو مزید بڑھایا کیونکہ جب خلوت رضاکی دلیل ہے تو یہ امور رضاپر دلیل ہونے میں زیادہ واضح ہیں جیسا کہ ظاہر ہے۔(ت) |
حاشیتین علامہ طحطاوی وشامی میں ہے:
|
قولہ بخلاف خدمتہ ای ان کانت تخدمہ من قبل ففی البحر عن المحیط والظھیریۃ ولوأکلت من طعامہ اوخدمتہ کما کانت فلیس برضی دلالۃ [2]ا ھ۔ |
ماتن کے قول"لڑکی کاخدمت کرنا"اس کے خلاف ہے یعنی اگر لڑکی نکاح سے پہلے اس شخص کی خادمہ تھی تو اس بارے میں بحر،محیط اور ظہیریہ سے منقول ہے کہ اگر لڑکی نے اس شخص کاکھانا کھایا یا اس کی خدمت کی تو یہ رضا پر دلیل نہ ہوگی اھ(ت) |
ہمارے بلاد میں عام لوگوں خصوصًاشریفوں خصوصا اغنیاء میں اگرچہ یہ اکثر باتیں شب زفاف بلکہ مدت تك اس کے بعد بھی واقع نہیں ہوتیں۔اور بوس وکنار ومساس وجماع جو اس شب ہوتے ہیں غالبًا نہایت اظہار کراہت ونفرت کے ساتھ ہوتے ہیں جن کے باعث انھیں دلیل رضا ٹھہرانے میں دقت ہے مگراس میں شبہہ نہیں کہ شوہر کو شبِ زفاف تنہا مکان میں اپنے پاس آنے دینا اور اس خلوت پر سوا شرم کے کوئی اثر مترتب نہ ہونا یقینا ہوتاہے نکاح نافذ ہوجانے کے لیے اسی قدر بس ہے اوریہ امر قطعًا پیش از جماع واقع ہوتا ہے تو جماع بعد نفاذ ولزوم نکاح واقع ہوا اور اولاد حلال ہوئی ۲۳بلکہ اگرمقاصد شرع مطہرہ اور اپنے بلاد کے حالات کو پیش نظر رکھ کر نگاہ دقیق فقہی سے کام لیجئے تو شب اول شوہر کو اپنے ساتھ جماع پر قدرت دینا بھی حقیقۃً رضا ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع