30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کام خدمت میں مشغول ہو جبکہ نکاح سے پہلے اس کی خدمت نہ کیا کرتی ہو۔ونحو ذلك من کل فعل یدل علی الرضا (اور یونہی اس قسم کے تمام وہ افعال جو رضا مندی پر دلالت کرتے ہیں۔ت)ان سب صورتوں میں وہ نکاح کہ موقوف تھا جائز ونافذ ولازم ہوجائے گا۔عالمگیری میں ہے۔
|
کما یتحقق رضاھا بالقول کقولھا رضیت وقبلت واحسنت واصبت وبارك اﷲ لك اولناونحوہ یتحقق بالدلالۃ کطلب مھرھا ونفقتھا وتمکینھا من الوطی وقبول التھنئۃ والضحك بالسرور من غیر استھزاء کذا فی التبیین [1]۔ |
جیسا کہ،میں راضی ہوں،میں نے قبول کیا،تونے اچھا کیا،تونے درست کیا۔الله تعالٰی تجھے برکت دے یاہمیں برکت دے جیسے الفاظ سے عاقلہ بالغہ کی رضامندی ثابت ہوتی ہے یوں ہی ان افعال سے دلالۃً رضا ثابت ہوگی مثلا مہر طلب کرنا،نفقہ طلب کرنا،وطی کی اجازت دینا، مبارکباد،قبول کرنا،خوشی سے ہنسنا وغیرہ،جیسا کہ تبیین میں ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
وان تبسمت فھو رضا ھوالصحیح من المذھب ذکرہ شمس الائمۃ الحلوانی کذافی المحیط [2]۔ |
اگر وہ خوشی سے تبسم کرے تو وہ رضا ہے،یہی صحیح مذہب ہے۔اس کو شمس الائمہ حلوانی نے ذکر کیا جیسا کہ محیط میں ہے۔(ت) |
خانیہ میں ہے:
|
الرضا باللسان اوالفعل الذی یدل علی الرضا نحوا لتمکین من الوطی وطلب المھر وقبول المھر دون قبول الھدیۃ وکذافی حق الغلام [3]۔ |
رضا زبانی اور عمل دونوں طرح ہوتی ہے یہ ان امور میں ہے جو رضا پر دلالت کریں۔جیسے وطی کی اجازت،مہر طلب کرنا،مہر کو وصول کرلینا،بخلاف ہدیہ قبول کرنے کے کہ یہ نکاح پر رضا مندی نہ ہوگی،لڑکے کے بارے میں بھی ایسا ہی ہے۔ (ت) |
حاشیہ طحطاویہ میں زیرقول درمختار وقبول التھنئۃ والضحك سرور او نحو ذٰلک(مبارك باد قبول کرنا، ہنسنا خوشی میں وغیرہ۔ت)ہے کامرھا بحمل جھازھا الی بیت الزوج [4](جیسے لڑکی کاجہیز کے سامان
[1] فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ١/٢٨٩
[2] فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ١/٢٨٧
[3] فتاوٰی قاضی خاں فصل فی شرائط النکاح نولکشور لکھنؤ ١/١٥٨
[4] حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار کتاب النکاح باب الولی دارالمعرفۃ بیروت ٢/٣٢
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع