30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
روایۃ الاصول اذا صححت سقطت کل روایۃ سواھا فکان السبیل الجزم دون مجرد الاستظھار،واﷲ ولی التوفیق۔ |
____ کیونکہ یہ بات مسلمہ ہے کہ جب اصول کی روایات کی تصحیح ہوجائے تو باقی تمام روایات ساقط قرار پاتی ہیں اس لیے مناسب تھا کہ علامہ شامی صرف اظہار کی بجائے اپنے جزم کو کلام میں لاتے،اور الله تعالٰی ہی توفیق کا مالك ہے۔ (ت) |
بہر حال مذہب راجح پر یہ نکاح نکاح فضولی ہوتے ہیں اور نکاح فضولی کو مذہب حنفی میں باطل جاننا محض جہالت وفضولی بلکہ باجماع ائمہ حنفیہ رضی الله تعالٰی عنہم منعقد ہوجاتا ہے اور اجازت اصیل پر(کہ یہاں وہ عورت ہے جس کے لیے بے اذن اس کا نکاح غیر وکیل نے کردیا)موقوف رہتا ہے اگر وہ اجازت دے نافذ ہوجائے اور رد کردے تو باطل۔
|
کما ھو حکم تصرفات الفضولی جمیعا عندنا کما صرح بہ فی عامۃ کتب المذھب۔ |
جیسا کہ فضولی کے تمام تصرفات کاہمارے ہاں حکم ہے جس کی تمام کتب مذہب میں تصریح ہے۔(ت) |
عالمگیری میں ہے:
|
لایجوز نکاح احد علی بالغۃ صحیحۃ العقل من اب اوسلطان بغیر اذنھا بکراکانت اوثیبا فان فعل ذٰلك فالنکاح موقوف علٰی اجازتھا فان اجازتہ جاز وان ردتہ بطل کذا فی السراج الوھاج [1]۔ |
عاقلہ بالغہ کی مرضی کے خلاف باپ یا حاکم کا کیا ہوا نکاح اس کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہوگا خواہ وہ عاقلہ بالغہ باکرہ ہو یا ثیبہ۔اگر ایسا ہو توا س کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ وہ جائز قرار دے تو جائز ہوگا ورنہ اگر رد کردے تو وہ نکاح باطل ہوجائے گا،سراج وہاج میں یوں ہی ہے۔(ت) |
پھر اجازت جس طرح قول سے ہوتی ہے مثلًا عورت خبرنکاح سن کرکہے میں نے جائز کیا یا اجازت دی یا راضی ہوئی یا مجھے قبول ہے یا اچھا کیا یا خدا مبارك کرے الٰی غیر ذٰلك من الفاظ الرضا(علاوہ ازیں تمام وہ الفاظ جو رضا پر دلالت کرتے ہیں۔ت)یوں ہی اس فعل یا حال سے بھی آگاہ ہو جاتی ہے جس سے رضامندی سمجھی جائے مثلًا عورت اپنا مہر مانگے یا نقد طلب کرے یا مبارکباد لے یا خبر نکاح سن کر خوشی سے ہنسے یا مسکرائے یا اپنا جہیز شوہر کے گھر بھجوائے یااس کا بھیجا ہوا مہر لے لے یا اسے بلا جبر واکراہ اپنے ساتھ جماع یا بوس وکنار ومساس کرنے دے یا تنہا مکان میں اپنے ساتھ خلوت میں آنے دے یا اس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع