30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الا البخاری عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ |
اجازت ہوگی۔امام احمد نے اور صحاح ستہ میں ماسوائے بخاری کے اس کو ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہماسے روایت کیا ہے۔(ت) |
مگریہ اسی وقت ہے جبکہ ولی اقرب اس سے اذن لے ورنہ مجرد خاموشی اذن نہ ٹھہرے گی۔درمختار میں ہے:
|
فان استاذنھا غیر الاقرب کا جنبی او ولی بعید فلا عبرۃ لسکوتھا [1]الخ۔ |
اگر باکرہ سے ولی اقرب کاغیر مثلًا کوئی اجنبی یا ولی بعید اجازت طلب کرے تو یہاں باکرہ کی خاموشی رضامیں معتبر نہیں الخ۔(ت) |
اور بیشك اکثر لوگ جو وکیل کئے جاتے ہیں اجنبی یاولی بعید ہوتے ہیں تو ایسی حالت میں اگر انھوں نے اذن لے لیا اور دوشیزہ نے سکوت کیا تو سرے سے انھیں کے لیے وکالت ثابت نہ ہوئی اور اگر اس نے صاف"ہوں"کہہ دیا یا ولی اقرب کے اذن لینے پر سکوت کیا تو اس کے لیے وکالت حاصل ہوگئی مگر وکیل بالنکاح کو شرعًا اتنا اختیار ہے کہ خود نکاح پڑھائے نہ کہ دوسرے کو پڑھانے کی اجازت دے جب تك ماذونِ مطلق یا صراحۃً دوسرے کو وکیل کرنے کا مجاز نہ ہو بغیر اس کے اگر اس نے دوسرے سے پڑھوایا توصحیح مذہب پر نکاح بلااذن ہوگا اگرچہ عقد اس کے سامنے ہی واقع ہو،
|
فی ردالمحتار عن العلامۃ الرحمتی عن العلامۃ الحموی عن کلام الامام محمد فی الاصل ان مباشرۃ وکیل الوکیل بحضرۃ الوکیل فی النکاح لاتکون کمبا شرۃ الوکیل بنفسہ بخلافہ فی البیع [2] الخ ۲۱اقول: نص الغمز عن الولوالجیۃ ھکذا لو وکل رجلافوکل الوکیل غیرہ وفعل الثانی بحضرۃ الاول فان کان بیعا اوشراء یجوز وماعدا البیع والشراء من الخصومۃ والتقاضی والنکاح والطلاق وغیر ذٰلك |
ردالمحتا رمیں علامہ رحمتی نے علامہ حموی کے حوالے سے اصل(مبسوط)میں ذکر شدہ امام محمد رحمۃ الله تعالٰی علیہ کا کلام نقل کیا ہے کہ نکاح میں خود وکیل کی موجودگی میں وکیل کی بات معتبر نہیں ہے،بیع کا معاملہ اس کے برخلاف ہے،اقول: میں کہتا ہوں کہ غمز نے ولوالجیہ سے یوں نقل کیا ہے کہ اگر کسی نے کسی کو اپنا وکیل بنایا اور اگر دوسرے وکیل نے پہلے وکیل کی موجودگی میں عمل کیا توا یسی صورت میں اگر بیع وشراء کا معاملہ ہو توجائز ہے اوراس کے علاوہ دیگر امور مثلًا عدالتی مطالبہ،نکاح، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع