30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اقول: وقدکان سنح لی ھذا ثم رأیتہ للعلامۃ مصطفی الرحمتی لمحشی الدر وقال فی ردالمحتار ووفق الرحمتی یحمل القول بالاشتراط علی اشتراط فھم انہ عقد نکاح والقول بعدمہ علی عدم اشتراط فھم معانی الالفاظ بعد فھم ان المراد عقد النکاح [1] اھ وھو کما تری حسن جدا، اقول: ومن علم الفقہ والحکمۃ فی اشتراط الشھادۃ فی عقد النکاح اتقن بھذا التوفیق فان من علم ان ھذا نکاح فقد شھد العقد وان لم یقف علی خصوص ترجمۃ الالفاظ ومن لم یفہم فکأن لم یسمع ومن لم یسمع فکأن لم یحضر وبتقریری ھذا یتضح لك ان الاجتزاء بذکر الحضور اوبہ وبالسماع اوذکر ھما مع الفھم کل یودی مودی واحدا عندالتدقیق واﷲ ولی التوفیق۔
|
اقول: مجھے یہ واضح ہوا،پھر اس کے بعد مجھے یہ بات در کے محشی علامہ مصطفی رحمتی کے ہاں مل گئی۔اور ردالمحتار میں فرمایا کہ علامہ رحمتی نے فہم کی شرط والے قول اور فہم کی شرط نہ ہونے والے قول میں یوں تطبیق دی ہے____ کہ جہاں فہم کی شرط کا قول ہے اس سے مراد نکاح ہونے کا فہم ہے اور جہاں فہم کی شرط کی نفی ہے اس سے نکاح کے وقت بولے جانے والے الفاظ کے فہم کی نفی مراد ہے بشرطیکہ نکاح ہو نا سمجھا گیا ہو۔اھ آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ بہت اچھی تطبیق ہے اقول: جس کو عقد نکاح میں گواہوں کے موجود ہونے کی شرط کی حکمت معلوم ہے وہ اس تطبیق کی توثیق کرے گا کیونکہ جس نے گواہوں میں سے یہ معلوم کرلیا کہ یہ نکاح ہے تونکاح کا گواہ اگرچہ اس نے الفاظ کا ترجمہ نہ سمجھا،اور جس کو نکاح کا فہم نہ ہوا گویا اس نے سنا ہی نہیں اور جس نے نہ سنا گویا وہ مجلس نکاح میں حاضر نہ ہوا۔میری اس تقریر سے واضح ہوگیا کہ نکاح کے جواز میں صرف گواہوں کا حاضر ہونا،یا گواہوں کی حاضری اور سماع،یا ان دونوں کے ساتھ فہم کا ذکر حقیقۃً ان سب کا مقصد ایك ہی ہے،اور اﷲ سبحانہ تعالٰی توفیق کا مالك ہے۔(ت) |
پس مسئلہ دائرہ میں جبکہ مرد وزن ان الفاظ سے قصد انشاء کریں اس کے ساتھ یہ بھی ضرور کہ دو شاہد بھی ان کی اس گفتگو کو عقدنکاح سمجھیں خواہ بذریعہ قرائن یاخود عاقدین کے مطلع کر رکھنے سے ورنہ اگر سب حضار نے اسے محض اخبار جانا تو"فاھمین انہ نکاح"صادق نہ آیا اور نکاح صحیح نہ ہوا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع