30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فانما المعنی علی مابینا ولیس المراد ان اللفظ اذالم یتعین للاخبار عن الماضی صح العقد وان نویا بہ الاخبار کیف وانہ لایکون ح الامحض کذب ویشھد لك بذٰلك مااستشھد بہ من مسئلۃ الطلاق فانہ ان قال لست لی بامرأۃ ولم ینوبہ انشاء الطلاق وانما قصدا الاخبار الکاذب لم یقع قطعا فانہ لایقع عند ذلك بالتصریح کما قدمنا فکیف بالکنایات الاتری انہ بنفسہ قید المسئلۃ بقولہ ونوی الطلاق فکذا یقال ھٰھنا ونویا النکاح ھذا ماصرت الیہ لما وعیت ثم بتوفیق المولٰی سبحانہ وتعالٰی رأیت العلامۃ عبدالعلی برجندی نقل فی شرح النقایۃ کلام الامام فقیہ النفس بالمعنی وعبرعنہ بعین ما فھمتہ،وﷲ الحمد، وھذا نصہ فی الظھیریۃ لوقال بمحضرمن الشہود این زن من است فقالت ایں شوئی من ست اختلف المشائخ فیہ والصحیح انہ لاینعقد وفی فتاوی قاضی خان انما لایکون ھذا نکاحا اذا قالا ذلك علی سبیل الاخبار عن عقد ماض ولم یکن بینھما عقد اما
|
تفصیل کا مقصد وہی ہے جو ہم نے بیان کیا اور اس سے یہ مراد نہیں کہ جب اقرار کا لفظ ماضی کی خبر کیلےمتعین نہ ہو تو خبرکے باوجود عقد نکاح صحیح ہوگا،یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ مرد وعورت نے محض جھوٹ سے کام لیا ہے،اس کا شاہد یہ بھی ہے کہ امام قاضیخان نے اس بیان پر طلاق کے مسئلہ کوبطور شاہد پیش فرمایا کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کو کہا کہ تومیری بیوی نہیں ہے اوراس نے انشاء طلاق کا ارادہ نہ کیا بلکہ صرف جھوٹ مراد لیا تو قطعا طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس صورت میں صریح لفظ سے جب طلاق نہیں ہوتی تو کنایہ سے کیسے طلاق ہوسکتی ہے جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں آپ نے غور فرمایا ہوگا کہ انھوں نے اس مسئلہ کو طلاق کی نیت سے مقید کیا ہے(مذکورہ لفظ طلاق کی نیت سے کہے تو طلاق ہوگی ورنہ نہیں)اسی طرح جھوٹے اقرار نکاح میں بھی دونوں نے نکاح کی نیت کی ہو تو نکاح ہوگا ورنہ نہیں،یہ جس کو میں نے سمجھا وہی میں نے اختیار کیا ہے،پھر میں نے اﷲ تعالٰی کی توفیق سے علامہ عبدالعلی برجندی کو دیکھا کہ انھوں نے نقایہ کی شرح میں امام قاضی خان کی عبارت کو بالمعنٰی نقل کیا اور اس کی وہی تعبیر کی جو میں نے سمجھی،اور اﷲ تعالٰی کے لیے ہی تمام حمد ہے، یہی ظہیریہ کی عبارت ہے کہ اگر ایك شخص نے لوگوں کی موجودگی میں ایك عورت کو کہا کہ یہ میری بیوی ہے، اورعورت نے کہا یہ میرا خاوند ہے تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے،اور فتاوٰی قاضیخان میں ہے کہ اس صورت میں نکاح نہ ہوگا جب مرد و |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع