30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
۱۴اقول: ھذ ا الذی قررتہ بتوفیق اﷲ تعالٰی یجب ان یکون ھوالمراد من قولہ الامام الاجل فقیہ النفس قاضیخاں رحمہ اﷲ تعالٰی حیث افاد بعد مااثر عن البیھقی والنوازل مااسلفنا،قال مولٰنا رضی اﷲ تعالٰی عنہ ینبغی ان یکون الجواب علی التفصیل ان اقرا بعقد ماض ولم یکن بینھما عقد لایکون نکاحا وان اقرت المرأۃ انہ زوجھا واقر االرجل انھا امرأتہ یکون ذٰلك نکاحا،ویتضمن اقرارھما بذلك انشاء النکاح بینھما بخلاف مااذا اقرا بعقد لم یکن لان ذٰلك کذب محض وھو کما قال ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ اذا قال الرجل لامرأتہ لست لی بامرأۃ ونوی بہ الطلاق یقع ویجعل کانہ قال لست لی بامرأۃ لانی قد طلقتك ولو قال لم اکن تزوجتھا ونوی بہ الطلاق لایقع لان ذٰلك کذب محض لایمکن تصحیحہ [1]اھ قال فی الفتح علی مانقل عنہ فی ردالمحتار ان الحق ھذا التفصیل [2] اھ |
اقول: میں نے اﷲ تعالٰی کی توفیق سے جو تقریر کی ہے امام اجل فقیہ النفس قاضی خاں کے قول کا بھی لازمی طور پر یہی مقصد ہے جہاں انھوں نے بیہقی اور نوازل کے قول کو ہمارے بیان کردہ کے مطابق نقل کرنے کے بعد افادہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مناسب ہے کہ جواب میں تفصیل سے کام لیا جائے کہ مرد وعورت نے ماضی میں نکاح نہ ہونے کے باوجود ماضی میں نکاح ہونے کا اقرار کیا تو اس اقرار سے نکاح نہ ہوگا،اور اگر عورت نے اقرار میں یوں کہا کہ یہ میرا خاوند ہے اور مردنے یوں کہا کہ یہ میری بیوی ہے تو یہ اقرار نکاح قرار پائے گا اور ان کے اقرار کے ضمن میں نکاح ایجاب ہوجائیگا بخلاف جبکہ ماضی کے نکاح کے بارے میں اقرار ہو،کیونکہ وہ محض جھوٹ ہے۔اس تفصیل کا ماحاصل ایسے ہے جیسا کہ امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو کہا کہ تو میری بیوی نہیں ہے اور اس نے طلاق کی نیت کی ہو تو طلاق ہو جائے گی گویا اس شخص نے یوں کہاں کہ تومیری بیوی نہیں کیونکہ میں نے تجھے طلاق دے دی ہے،اور اگر اس نے بیوی کویوں کہا کہ میں نے تجھ سے نکاح نہیں کیا اس قول سے اس نے طلاق کی نیت کی ہوتوطلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ ایسا جھوٹ ہے جس کی توجیہ نہیں ہوسکتی اھ ردالمحتار میں فتح سے نقل کیا گیا ہے کہ یہی تفصیل حق ہے اھ،اس |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع